ذوالنون مصریؒ ایک مرتبہ کشتی میں سفر کر رہے تھے۔ دریا میں ایک اور کشتی بھی چل رہی تھی۔ اس میں نوجوان مرد، عورتیں اور لڑکیاں سفر کر رہی تھیں، وہ لوگ کچھ کھا پی رہے تھے اور قہقہے بھی لگا رہے تھے۔ لگتا تھا کہ وہ گندے لوگ تھے اور انہوں نے گندی محفل لگائی ہوئی تھی۔ جب حضرتؒ کی کشتی کے لوگوں نے ان کو دیکھا تو انہیں بڑا غصہ آیا اور ان میں سے ایک بندہ ذوالنون مصریؒ کے پاس آیا اور عرض
کیا، حضرت دیکھئے! ان کو خدا کا خوف نہیں ہے۔ پی پلا رہے ہیں اور قہقہے لگا رہے ہیں۔ لہٰذا آپ بد دعا کر دیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی کشتی کو غرق کر دے۔ جب لوگوں نے بار بار کہا تو آپ نے ان کشتی والوں کودیکھا اور ہاتھ اٹھا کر دعا مانگی۔ اے اللہ! جیسے آپ نے ان کو دنیا کی خوشیاں عطا کی ہیں اسی طرح ان کو آخرت کی خوشیاں بھی عطا فرما ۔ جب انہوں نے دعا مانگی تو اللہ نے کشتی والوں کو توبہ کی توفیق عطا فرما دی۔



















































