قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا ایسا عظیم الشان کلام ہے جس کے معجزے ہر دور میں نظر آتے رہے، 1987 کی بات ہے کہ اس عاجز کو امریکہ میں کچھ وقت گزارنے کا موقع ملا، اس وقت مصر کے مشہور قاری عبدالباسط، جن کی کیسٹیں آپ اکثر سنتے رہتے ہیں، وہ بھی وہاںتشریف لائے، کچھ ایسا سلسلہ بنا کر مختلف محفلوں میں وہ قرآن پاک کی تلاوت کرتے تھے اور یہ عاجز کہیں اردو میں کہیں انگلش میں جیسا مجمع ہوتا تھا
اسی کے حساب سے کچھ باتیں عرض کر دیا کرتا تھا، اسی انداز سے مختلف جگہوں پر پروگرام ہوتے رہے، آپ کو پتہ ہی ہے کہ قاری عبدالباسط کتنا ڈوب کر قرآن پڑھتے تھے، اللہ کریم نے ان کو آواز بھی ایسی دی تھی کہ جو ان کی زبان سے قرآن سنتا تھا وہ عش عش کر اٹھتا تھا، ان کو اس عاجز سے اتنی محبت تھی کہ وہ میرا نام لے کر مجھ سے بات نہیں کرتے تھے، بلکہ جب بھی بات کرنی ہوتی تو وہ مجھے ’’رجل صالح‘‘ کہہ کر بات کرتے تھے، ایک مرتبہ کسی نے ان سے پوچھا، قاری صاحب! آپ اتنا مزے کا قرآن مجید پڑھتے ہیں۔ آپ نے بھی کبھی قرآن کا معجزہ دیکھا ہے۔ وہ کہنے لگے، قرآن کا ایک معجزہ؟ معلوم نہیں کہ میں نے قرآن کے سینکڑوں معجزے آنکھوں سے دیکھے ہیں میں نے کہا کوئی ایک تو سنا دیجئے تو یہ واقعہ انہوں نے خود سنایا: قاری صاحب فرمانے لگے کہ یہ اس وقت کی بات ہے کہ جب جمال عبدالناصر مصر کا صدر تھا، اس نے رشیا (روس) کا سرکاری دورہ کیا، وہاں پر کمیونسٹ حکومت تھی، اس وقت کمیونزم کا طوطی بولتا تھا، دنیا اس سرخ انقلاب سے گھبراتی تھی، دنیا میں اس کو ریچھ سمجھا جاتا تھا، آج تو اس سپرپاور کو اللہ تعالیٰ نے جہاد کی برکت سے صفرپاور بنا دیا ہے، جمال عبدالناصر ماسکو پہنچا، اس نے وہاں جا کر اپنے ملکی امور کے بارے میں کچھ ملاقاتیں کیں، ملاقاتوں کے بعد انہوں نے تھوڑا سا وقت تبادلہ خیالات کے لیے رکھا ہوا تھا، اس وقت وہ آپس میں گپیں مارنے کے لیے بیٹھ گئے، جب آپس میں گپیں مارنے لگے تو ان کمیونسٹوں نے کہا،
جمال عبدالناصر! تم کیا مسلمان بنے پھرتے ہو تم ہماری سرخ کتاب کو سنبھالو، جو کمیونزم کا بنیادی ماخذ تھا، تم بھی کمیونسٹ بن جائو، ہم تمہارے ملک میں ٹیکنالوجی کو روشناس کرا دیں گے، تمہارے ملک میں سائنسی ترقی بہت زیادہ ہو جائے گی اور تم دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں میں شمار ہو جائو گے، اسلام کو چھوڑو اور کمیونزم اپنا لو، جمال عبدالناصر نے انہیں اس کا جواب دیا تو سہی مگر دل کو تسلی نہ ہوئی، اتنے میںوقت ختم ہو گیا اور واپس آ گئے، مگر دل میں کسک باقی رہ گئی، کہ نہیں مجھے اسلام کی حقانیت کو اور بھی زیادہ واضح کرنا چاہیے تھا، جتنا مجھ پر حق بنتا تھا میں نہیں کر سکا، دو سال کے بعد جمال عبدالناصر کو ایک مرتبہ پھر رشیا جانے کا موقع ملا، قاری صاحب فرماتے ہیں کہ مجھے صدر کی طرف سے لیٹر ملا کہ آپ نے تیاری کرنی ہے اور میرے ساتھ ماسکو جانا ہے، کہنے لگے کہ میں بڑا حیران ہوا کہ قاری عبدالباسط کی تو ضرورت پڑے سعودی عرب میں عرب امارات میں، پاکستان میں وہاں مسلمان بستے ہیں، ماسکو اور رشیا جہاں خدا بے زار لوگ موجود ہیں۔ دین بے زار لوگ موجود ہیں وہاں قاری عبدالباسط کی کیا ضرورت پڑ گئی، خیر تیاری کی اور میں صدر صاحب کے ہمراہ وہاں پہنچا۔ وہاں انہوں نے اپنی میٹنگ مکمل کی، اس کے بعد تھوڑا سا وقت تبادلہ خیالات کے لیے رکھا ہوا تھا، فرمانے لگے اس مرتبہ جمال عبدالناصر نے ہمت سے کام لیا اوران سے کہا کہ یہ میرے ساتھی ہیں جو آپ کے سامنے کچھ پڑھیں گے،
آپ سنئے گا وہ سمجھ نہ پائے کہ یہ کیا پڑھے گا، وہ پوچھنے لگے کہ یہ قرآن پڑھے گا، انہوں نے کہا اچھا پڑھئے، فرمانے لگے کہ مجھے اشارہ ملا اور میں نے پڑھنا شروع کیا، سورہ طہ وہ رکوع پڑھناشروع کر دیا جسے سن کر کسی دور میں حضرت عمر بن خطابؓ بھی ایمان لے آئے تھے۔ فرماتے ہیں کہ میں نے جب وہ رکوع تلاوت کرکے آنکھ کھولی تو قرآن کا معجزہ اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ سامنے بیٹھے کمیونسٹوں میں سے چار یا پانچ آدمی آنسوئوں سے رو رہے تھے، جمال عبدالناصر نے پوچھا، جناب! آپ کیوں رو رہے ہیں؟ وہ کہنے لگے ہم تو کچھ نہیں سمجھے کہ آپ کے ساتھی نے کیا پڑھا ہے مگر پتہ نہیں کہ اس کلام میں کچھ ایسی تاثیر تھی کہ ہمارا دل موم ہو گیا، آنکھوں سے آنسوئوں کی جھڑیاں لگ گئیں اور ہم کچھ بتا نہیں سکتے کہ یہ سب کچھ کیسے ہوا؟ سبحان اللہ، جو قرآن کو مانتے نہیں، قرآن کو جانتے نہیں اگر وہ بھی قرآن سنتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کے دلوں میں بھی تاثیر پیدا کر دیا کرتے ہیں۔



















































