حضرت حاجی امداد اللہ صاحبؒ ایک مرتبہ دستر خوان پر بیٹھے۔ حضرت گنگوہیؒ اور حضرت فضل الرحمان گنج مراد آبادیؒ بھی ساتھ تھے۔ حضرت حاجی صاحبؒ نے ایک پلیٹ میں دال ڈال دی اور ایک روٹی حضرت گنگوہی کے ہاتھ میں پکڑوا دی اور فرمایا کہ وہاں پیچھے دستر خوان کے کونے پر بیٹھ کر کھا لو
اور خود دستر خوان پر پڑی طرح طرح کی نعمتیں کھانا شروع کر دیں۔ آج کا کوئی مرید ہوتا تو پیر سے بدظن ہو جاتا کہ اس پیر کو تو مساوات ہی نہیں آتی۔ اس پیر کو تو آداب معاشرت نہیں آتے اس پیر کو تو شریعت کا پتہ ہی نہیں ہے۔ یہ بندے کو بندہ نہیں سمجھتا۔ اس کے اندر تو تکبر ہے۔ اس کے اندر عجب ہے۔ اس کے اندر دنیا کی محبت ہے۔ معلوم نہیں کیا کیا فتوے لگ جاتے۔ مگر وہ کامل تھے۔ طالب صادق تھے۔ وہ جانتے تھے کہ اس میں کوئی حکمت ہو گی لہٰذا آرام سے بیٹھ کر کھانا شروع کر دیا۔ ادھر حضرت حاجی صاحبؒ اپنے کھانے میں تو بریانی اور بوٹیاں کھا رہے ہیں اور ادھر دال دی ہوئی تھی۔ تھوڑی دیر کھانا کھاتے رہے۔ تھوڑی دیر کے بعد کہا۔ میاں رشید احمد! جی تو یہ چاہتا تھا کہ تجھے ادھر جوتوں پر بٹھا دیتا کہ وہاں بیٹھ کر کھانا کھاؤ مگر تم پر احسان کیا کہ تمہیں اپنے دستر خوان کے کونے پر بٹھا لیا۔ یہ کہنے کے بعد حضرت حاجی صاحب نے ان کی طرف دیکھا۔ حضرت گنگوہی نے مسکرا کر کہا۔ حضرت! میری اوقات تو یہی ہے کہ میں جوتوں میں بیٹھنے کے قابل نہیں تھا۔ آپ نے احسان فرمایا کہ اپنے دستر خوان کے کونے پر بٹھا لیا۔ جب حضرت حاجی صاحب نے دیکھا کہ ایسی بات کو سن کر نفس بھڑکا نہیں، چمکا نہیں۔ بلکہ عاجزی کا بول نکالا ہے تو فرمایا! الحمدللہ اب کام بن گیا ہے۔ اس امتحان کے بعد حضرت حاجی صاحب نے ان کو نسبت القاء فرمائی۔



















































