اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

قرآنی اثر انگیزی پر اہل خانہ مشرف بہ اسلام

datetime 7  اپریل‬‮  2017 |

ہمارے ملک پاکستان کے صوبہ سندھ میں ایک ہندو گھرانے کے اسلام لانے کا ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔ ایک جوان کا تعلق ہندو گھرانے سے تھا۔ اسے کینسر کا مرض لاحق ہوا۔ ڈاکٹروں نے لاعلاج قرار دے کر ہاسپٹل سے گھر بھیج دیا۔ اس کی عمر چالیس بیالیس سال تھی۔ وہ گھر آ کر بڑا اداس اور پریشان رہنے لگا۔ اسے رہ رہ کر یہ خیال آتا کہ میں تو بس چند دنوں کے بعد مر جائوں گا۔ ایک دن اس کی بیوی اس کے پاس بیٹھی تھی۔

وہ اس کے ساتھ محبت بھری باتیں کر رہا تھا۔ اس دوران وہ کہنے لگا، اب تو میں اور آپ جدا ہو جائیں گے کیونکہ اب میری صحت کے بحال ہونے کا کوئی چانس باقی نہیں ہے۔ بیوی نے کہا، اگر آپ میرے ساتھ وعدہ کریں کہ میں جو بھی کہوں گی آپ میری بات مانیں گے تو اس شرط پر میں آپ کو ایک چیز پلاتی ہوں، آپ بالکل صحت مند ہو جائیں گے۔ اس نے جواب دیا، جب ہاسپٹل میں میرے علاج کے لیے دوائیاں نہیں ہیں تو آپ کے پاس کون سی چیز آ گئی ہے؟ وہ کہنے لگی، کیا آپ کو مجھ سے محبت ہے؟ اس نے کہا جی ہاں بہت محبت ہے۔ بیوی نے کہا، اگر آپ کو مجھ سے واقعی محبت ہے تو پھر وعدہ کریں۔ آپ بالکل ٹھیک ہو جائیں گے، پھر ہم اکٹھے لمبی زندگی گزاریں گے، بس آپ وعدہ کریں کہ جو بات میں کہوں گی آپ ضرور مانیں گے۔ اس نے کہا، میں تو آپ کی باتیں ویسے ہی مانتا ہوں پہلے زمانے میں تو جانور کو رسی ڈال کر پیچھے لے کر چلتے تھے لیکن آج کل کے نوجوان ایسے سدھائے ہوئے ہیں کہ ویسے ہی پیچھے چل رہے ہوتے ہیں۔ خیر میاں نے وعدہ کر لیا کہ آپ جو بات بھی کہیں گی میں مانوں گا۔ اس کے بعد اس کی بیوی اس کے پاس کرسی ڈال کر بیٹھ گئی، جب وہ فارغ ہوئی تو اس نے میاں کو اس میں سے کچھ پانی پلا دیا۔ پھر جب بھی اس کو پیاس محسوس ہوتی وہ اس جگ میں سے اسے پانی پلا دیتی۔ اللہ کی شان دیکھئے کہ اس نے ابھی چند دن ہی وہ پانی پیا تھا کہ وہ اپنے آپ کو صحت مند محسوس کرنے لگا۔ اس نے جا کر لیبارٹری ٹیسٹ کروایا تو پتہ چلا کہ اس کے اندر کا بلڈ کینسر ختم ہو چکا تھا۔ اس کو یقین نہ آیا۔

جب اس نے ساری صورت حال اپنی بیوی کو بتائی تو اس نے کہا کہ کسی دوسری لیبارٹری سے چیک کروا لیں۔ چنانچہ وہ دوسری لیبارٹری میں چلا گیا۔ وہاں سے بھی یہی رپورٹ ملی کہ بلڈ کینسر ختم ہو چکا ہے۔ وہ بڑا حیران ہوا۔ جب وہ دوسری رپورٹ لے کر گھر آیا تو بیوی سے کہنے لگا میری بیماری تو واقعی ختم ہو چکی ہے اور میں اپنے آپ کو بہتر محسوس کر رہا ہوں، مگر سچ سچ بتائیں کہ آخر یہ معاملہ کیا ہے؟ بیوی کہنے لگی، پہلے تو آپ وعدہ پورا کریں جو میرے ساتھ کیا تھا، پھر بتائوں گی، اس نے کہا، ٹھیک ہے، آپ مطالبہ کریں، آپ جو بات بھی کہیں گی میں پوری کروں گا۔ وہ کہنے لگی، ’’آپ کلمہ پڑھ کر مسلمان بن جائیں‘‘۔ جب اس کی بیوی نے یہ کہا تو وہ ہندو جوان حیران رہ گیا۔ وہ اس کے چہرے کی طرف غور سے دیکھ کربولا، آپ کیا کہہ رہی ہیں؟ بیوی نے کہا، میں آپ کی بیوی ہوں، اب آپ کو صحت مل چکی ہے، آپ نے مجھ سے وعدہ کیا ہوا ہے، لہٰذا اب آپ اپنا وعدہ نبھائیں اور کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو جائیں۔ اس نے کہا، میں تو یہ تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ آپ مجھ سے یہ کہیں گی۔ بیوی نے کہا، جی آپ کی بات بالکل ٹھیک ہے، لیکن اب جو کہہ دیا ہے وہ پورا کریں۔ اس نے پوچھا، کیا آپ مسلمان ہیں؟ بیوی کہنے لگی، ہاں میں مسلمان ہوں۔ اس نے کہا، تمہارا باپ تو اتنا پکا ہندو ہے کہ وہ تو اوروں کو بھی ہندو بناتا ہے اگر اسے آپ کے بارے میں پتہ چل گیا تو وہ تو آپ کا گلا کاٹ دے گا، تم ایسے گھر کی لڑکی ہو پھر تم کیسے مسلمان بن گئی؟ بیوی نے کہا یہ لمبی کہانی ہے پھر سنائوں گی، آپ پہلے کلمہ پڑھیں اور مسلمان بن جائیں۔

میاں اب اچھی طرح قابو میں آ چکا تھا اس لیے اسے کلمہ پڑھنا ہی پڑا۔ الحمدللہ وہ مسلمان بن گیا۔ اس کے بعد اس نے بیوی سے کہا کہ اب بتائو کہ اصل میں معاملہ ہوا کیا تھا؟ اب اس نے اسے یہ کہانی سنائی جو اب میں سنا رہا ہوں۔ بیوی نے کہا کہ جب میں چھوٹی عمر میں سکول پڑھتی تھی اس وقت میری کلاس میں ایک مسلمان لڑکی بھی تھی۔ وہ میری سہیلی بن گئی۔ وہ ہمارے پڑوس میں ہی رہتی تھی۔ میں شام کے وقت اس کے گھر کھیلنے کے لیے جاتی تھی۔ اس کی والدہ مسلمان بچوں کو قرآن مجید پڑھاتی تھی میری سہیلی بھی اپنی والدہ سے قرآن مجید پڑھتی تھی، چونکہ وہ میری سہیلی تھی اس لیے جب وہ اپنا سبق یاد کرتی تو میں بھی اس کے پاس بیٹھ جاتی تھی میں بھی ذہین تھی اسے بھی سبق یاد ہو جاتا اور مجھے بھی اس کا سبق یاد ہو جاتا۔ جب وہ اپنی امی کو سناتی تو میں بھی ان سے کہتی کہ خالہ! میں بھی سناتی ہوں، اس طرح وہ مجھ سے بھی سبق سن لیتی تھی۔ جب خالہ نے چند دنوںمیں میرا شوق دیکھا تو انہوں نے مجھے مشورہ دیا کہ بیٹی! تم روزانہ ہی تو آتی ہو تم بھی اس کے ساتھ ساتھ روزانہ یاد کرتی ہو۔ چونکہ میری کلاس فیلو تھی اس لیے میں نے کہا، جی ٹھیک ہے۔ جب میں نے یہ کہا تو خالہ کہنے لگی ’’بیٹی! یہ کسی کو نہ بتانا‘‘ میں نے کہا، جی میں کسی کو نہیں بتائوں گی۔ اس طرح میں دو سال تک ان کے گھر جاتی رہی اور سبق بھی پڑھتی رہی۔ جس طرح ان کی بیٹی نے ناظرہ قرآن پاک مکمل کیا اسی طرح میں نے بھی اس کے ساتھ قرآن پاک مکمل کر لیا۔

میں نے جب قرآن پاک مکمل پڑھ لیا تو میں نے خالہ سے کہا، باقی بچے تو گھر میں پڑھتے ہیں لیکن میں تو گھر میں نہیں پڑھ سکتی۔ انہوں نے کہا، قرآن مجید میں الم نشرح ایک سورت ہے۔ یہ سورت پڑھ کر اگر کسی مریض پر دم کر دیں یا پانی پر دم کرکے اسے پلا دیں تو اس کو صحت مل جاتی ہے یہ عمل مجھے کسی بزرگ نے بتایا تھا۔ اب یہی عمل میں آپ کو بتا رہی ہوں، اسے یاد رکھنا یہ کبھی نہ کبھی تیرے کام آئے گا، وہ مجھے اس قسم کی باتیں سناتی رہتی تھیں۔ جب میں جوان ہوئی، اور میری شادی ہونے لگی تو چند دن پہلے میں ان کے پاس گئی اور ان کے پاس بیٹھ کر بہت روئی۔ میں نے کہا، خالہ! آپ کی بیٹی میری سہیلی تھی، اس کی وجہ سے میں آپ کے گھر میں آیا کرتی تھی، اسی بہانے سے میں نے قرآن پاک بھی پڑھ لیا تھا اور آپ نے مجھے کلمہ بھی پڑھادیا تھا، اندر سے تو میں مسلمان ہو چکی ہوں، لیکن اب جہاں میری شادی ہو رہی ہے وہاں تو میں نہ ایمان کا اظہار کر سکتی ہوں اور نہ میرے پاس قرآن مجید ہو گا، وہاں میرا کیا بنے گا؟ خالہ نے کہا، بیٹی! تم پریشان نہ ہونا۔ میں کسی نہ کسی طرح تمہارے ساتھ جہیز میں قرآن مجید بھیج دوں گی۔ میں نے کہا، یہ تو بہت ہی عجیب بات ہے۔ چنانچہ خالہ نے میری والدہ کو پیغام بھجوایا کہ آپ کی بیٹی میری بیٹی کی سہیلی ہے، میری بیٹی اسے ہدیے کے طور پر جہیز کے کچھ کپڑے دینا چاہتی ہے، اگر اجازت ہو تو میں بھی کپڑے بنوا دوں۔ میرے والدین کے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہیں آ سکتی تھی، انہوں نے سوچا کہ یہ دونوں پرائمری سے لے کر کالج تک کلاس فیلوز ہیں اور آپس میں محبت بھی رکھتی ہیں۔

اس لیے انہوں نے اجازت دے دی کہ ٹھیک ہے آپ بھی کچھ جوڑے بنوا دیں۔ چنانچہ انہوں نے جواب بھیجا کہ ہم اس کو جہیز میں سات جوڑے بنوا کر دیں گے۔ اس خالہ نے میرے لیے بہت ہی قیمتی جوڑے بنوائے، انہوں نے ان کپڑوں کو بہت ہی خوب صورت طریقے سے گفٹ پیک کروایا اور ان کے درمیان میں قرآن مجید بھی گفٹ پیک کرکے ہمارے گھر پہنچا دیا۔ اور ساتھ یہ بھی کہ ہم نے اس کے کپڑے گفٹ پیک کیے ہیں، آپ اسے یہاں اپنے گھر نہ کھولنا بلکہ آپ کی بیٹی اپنے نئے گھر میں جا کر کھولے گی تاکہ اس کا خاوند بھی دیکھ کر خوش ہو۔ میرے والدین کو ان کی یہ بات بہت اچھی لگی۔ چنانچہ انہوں نے بھی کہا کہ یہ گفٹ پیک واقعی بہت خوبصورت ہے، بہتر یہی ہو گا کہ دلہن اسے اپنے گھر میںجا کر ہی کھولے۔ میں جب آپ کے گھر آئی تو میں نے سب سے پہلا کام یہ کیا کہ جس کمرے میں میری رہائش تھی، میں نے قرآن پاک نکال کر اس میں کہیں چھپا دیا۔ جب آپ روزانہ دفتر چلے جاتے تو میں پیچھے قرآن پاک کھول کر پڑھ لیتی اور جب آپ کے واپس آنے کا وقت قریب ہوتا تو میں اسے اچھی طرح چھپا کر رکھ دیتی تاکہ آپ اس کو دیکھ نہ لیں، زندگی کے اتنے سال میں نے آپ سے اپنا ایمان چھپائے رکھا۔ بالآخر آپ بیمار ہو گئے اور دوائیوں نے کام نہ کیا۔ میرے دل میں پکا یقین تھا کہ جہاں دوائیاں کام نہیں آتیں وہاں اللہ کا کلام کام آجاتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اسی کلام میں فرماتے ہیں: ’’یہ (قرآن مجید) سینے (دل) کی بیماریوں کے لیے شفا ہے۔

‘‘وہ کہنے لگی کہ جب آپ اپنی زندگی سے ناامید ہو گئے اور آپ نے مجھے کہا کہ اب میں مرنے کے قریب ہوں تو پھر میں نے آپ سے کہا کہ وعدہ کریں کہ جو میں کہوں گی آپ اسے پورا کریں گے تو میں آپ کو کچھ پانی پلاتی ہوں، آپ نے میری بات مان لی اور میں نے وہی سورت آپ کو پانی پر دم کرکے دی اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو شفا عطا فرما دی۔ میں نے بھی کلمہ پڑھا ہوا تھا اور اب آپ بھی مسلمان بن چکے ہیں، اللہ تعالیٰ نے اب آپ کو نئی زندگی دی ہے، اب آپ اس زندگی کو اللہ کے دین کی خدمت میں صرف فرما دیجئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…