رابعہ بصریہؒ ایک مرتبہ کہیں کھڑی تھیں۔ ان کے قریب سے ایک نوجوان گزرا۔ اس نے اپنے سر پر پٹی باندھی ہوئی تھی۔ انہوں نے پوچھا، بیٹا، کیا ہوا؟ اس نے کہا اماں! میرے سر میں درد ہے جس کی وجہ سے پٹی باندھی ہوئی ہے۔ پہلے تو کبھی درد نہیں ہوا۔ انہوں نے پوچھا، بیٹا ! آپ کی عمر کتنی ہے؟ وہ کہنے لگا، جی میری عمر تیس سال ہے، یہ سن کر وہ فرمانے
لگیں۔ بیٹا! تیرے سر میں تیس سال تک درد نہیں ہوا تو نے شکر کی پٹی کبھی نہیں باندھی۔ تجھے پہلی دفعہ درد ہوا ہے تو تو نے شکوے شکایت کی پٹی فوراً باندھ لی ہے۔ ہمارا حال بھی یہی ہے کہ ہم سالہا سال اس کی نعمتیں اور سکون کی زندگی گزارتے ہیں ہم اس کا تو شکر ادا نہیں کرتے اور جب ذرا سی تکلیف پہنچتی ہے تو فوراً شکوے کرنا شروع کر دیتے ہیں۔



















































