ایک بزرگ کسی راستے پر جا رہے تھے، انہوں نے ایک پتھر کو روتے ہوئے دیکھا، انہوں نے پتھر سے پوچھا تم کیوں رو رہے ہو؟ وہ کہنے لگا میں نے کسی قاری صاحب کو پڑھتے ہوئے سنا ہے کہ ’’انسان اور پتھر جہنم کا ایندھن بنیں گے‘‘ جب سے میں نے سناہے
میں رو رہا ہوں کہ کیا پتہ کہ مجھے بھی جہنم کا ایندھن بنا کر جلا دیا جائے، اس بزرگ کو اس پر بڑا ترس آیا، چنانچہ انہوں نے کھڑے ہو کر دعا مانگی، اے اللہ! اس پتھر کو جہنم کا ایندھن نہ بنانا، جہنم کی آگ سے معاف اور بری فرما دینا، اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرما لی، وہ بزرگ آگے چلے گئے، کچھ دنوں کے بعدواپسی اسی راستے پر گزرنے لگے تو دیکھا کہ وہ پتھر پھر رو رہا ہے، وہ پھر کھڑے ہو گئے، پتھر سے ہم کلام ہوئے تو پھر پتھر سے پوچھا کہ اب کیوں رو رہا ہے؟ تو پتھر نے جواب دیا کہ ذالک بکاء الخوف اے اللہ کے بندے! جب آپ پہلے آئے تھے تو اس وقت کا رونا تو خوف کا رونا تھا، اور اب میں شکر اور سرور کی وجہ سے رو رہا ہوں کہ میرے پروردگار نے مجھے جہنم کی آگ سے معافی عطا فرما دی ہے جیسے بچے کا رزلٹ اچھا نکلے تو خوشی کی وجہ سے آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں اسی طرح اللہ کے نیک بندوں کو جب اس کی معرفت ملتی ہے، جب سینوں میں نور آتا ہے سکینہ نازل ہوتی ہے اور رب کریم کی رحمت اور برکت نازل ہوتی ہے تو اللہ کے کامل بندے پھر اللہ کے شکر سے رویا کرتے ہیں۔



















































