ممتاز قادری کے بعد ملکی تاریخ کا دوسرا بڑانماز جنازہ علامہ خادم حسین رضوی کی نمازجنازہ میں ممتاز قادری کے والد اور صاحبزادے بھی شریک

  ہفتہ‬‮ 21 ‬‮نومبر‬‮ 2020  |  15:58

اسلام آباد،لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک،این این آئی )تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ علامہ خادم حسین رضوی کو اب سے کچھ دیر پہلے مدرسہ ابوذر غفاری میں سپردخاک کردیا گیا، اسے سے قبل نماز ظہر کے بعد مینارپاکستان پر ان کی نماز جنازہ ادا کی گئی ، نماز جنازہ میں ہر آنکھاشکبار تھی اور فضا لبیک یا رسول اللہ ۖ کے نعروں سے گونج رہی تھی۔ خادم حسین رضوی کے نماز جنازہ میںممتاز قادری کے والد اور انکے بیٹے سمیت لاکھوں افراد نے شرکت کی ، علامہ خادم حسین رضو ی کے نماز جنازہ کو ممتاز قادری کے بعد ملکی تاریخ کا دوسرا


بڑا جنازہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اہلخانہ کے مطابق قل خوانی کل صبح 9بجے داتا دربار میں ہوگی۔ا س سے پہلے تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ علامہ خادم حسین رضوی کی میت کو نمازجنازہ کی ادائیگی کے مقام تک لانے کیلئے ایمبولینس کو چار گھنٹے کا وقت لگ گیا ۔ علامہ خادم حسین رضوی کی میت ایمبولینس کے ذریعے صبح نو بجکر پانچ منٹ پر گھر سے نماز جناز ہ کی ادائیگی کے مقام مینار پاکستان کیلئے روانہ ہوئی لیکن کارکنوں اور عقیدت مندوں کے بے پناہ رش کی وجہ سے ایمبولینس چار گھنٹے بعد آزادی فلائی اوور تک پہنچ سکی ۔ نماز جنازہ کی ادائیگی میں شرکت کے لئے آنے والوں کارش اس قدر زیادہ تھا کہ ایمبولینس کو مینار پاکستان کی گرائونڈ کےاندرنہ لے جایا جاسکا اورآزادی فلائی اوور کے اوپر ہی کھڑی کر کے نماز جنازہ پڑھائی گئی اور بعد ازاںمیت کو تدفین کے لئے واپس لایا گیا ۔تحریک لبیک پاکستان کے ہزاروں کارکنان اور عقیدت مند علامہ خادم حسین رضوی کی میت لے جانے والی ایمبولینس کے ساتھ پیدل چلتے رہے ۔اس موقع پر رقت آمیز مناظربھی دیکھنے میں آئے ، کارکنان اور عقیدت مند دھاڑیں مار مار کر روتے رہے اور شدت غم سے نڈھال نظر آئے ۔ سڑک کے دونوں اطراف جمع ہونے والے لوگ میت لے جانے والی ایمبولینس پر پھولوںکی پتیاں نچھاور کرتے رہے ۔تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ علامہ خادم حسین رضوی کے استاد محترم علامہ عبد الستار سعیدی نے نماز جنازہ کی امامت کی اور بعد ازاں اجتماعی دعا کرائی ۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

بڑے چودھری صاحب

انیس سو ساٹھ کی دہائی میں سیالکوٹ میں ایک نوجوان وکیل تھا‘ امریکا سے پڑھ کر آیا تھا‘ ذہنی اور جسمانی لحاظ سے مضبوط تھا‘ آواز میں گھن گرج بھی تھی اور حس مزاح بھی آسمان کو چھوتی تھی‘ یہ بہت جلد کچہری میں چھا گیا‘ وکیلوں کے ساتھ ساتھ جج بھی اس کے گرویدا ہو گئے‘ اس ....مزید پڑھئے‎

انیس سو ساٹھ کی دہائی میں سیالکوٹ میں ایک نوجوان وکیل تھا‘ امریکا سے پڑھ کر آیا تھا‘ ذہنی اور جسمانی لحاظ سے مضبوط تھا‘ آواز میں گھن گرج بھی تھی اور حس مزاح بھی آسمان کو چھوتی تھی‘ یہ بہت جلد کچہری میں چھا گیا‘ وکیلوں کے ساتھ ساتھ جج بھی اس کے گرویدا ہو گئے‘ اس ....مزید پڑھئے‎