ہمارے کارکنوں کو تحفظ ناموس رسالت پر پہرے داری کی سزادی جارہی ہے،اسلامی شعائر کا مذاق اڑانے والی فلم ”زندگی تماشہ“ کیخلاف تحریک لبیک نے مظاہروں کا اعلان کر دیا

  ہفتہ‬‮ 18 جنوری‬‮ 2020  |  22:39

کراچی(این این آئی)تحریک لبیک یارسول اللہ پاکستان (ٹی ایل پی) کے سندھ اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر مفتی قاسم فخری،یونس سومرو اور ثروت فاطمہ نے راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت سے ٹی ایل پی کے کارکنوں کو ہزاروں سال قید کی سزا پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے کارکنوں کو تحفظ ناموس رسالت پر پہرے داری کی سزادی جارہی ہے۔اس طرح کی سزا کی مثال دنیا کے کسی معاشرے میں نہیں ملتی ہے۔ہم ملکی اداروں اور عدالتوں کا احترام کرتے ہیں لیکن اس طرح کے فیصلوں سے یہ تاثر جائے گا کہ اس ملک میں طاقتور وں


کے لیے الگ اور کمزوروں کے لیے الگ قانون ہے۔ٹی ایل پی اپنے کارکنوں کو انصاف دلانے کے لیے اعلیٰ عدالتوں سے رجوع کرے گی۔ہفتہ کو جاری مشترکہ بیان میں ٹی ایل پی کے ارکان سندھ اسمبلی نے کہا کہ امیر المجاہدین علامہ خادم حسین رضوی کے بھائی اور بھتیجے سمیت 86کارکنوں کو مجموعی طور پر 4738سال قید ایک کروڑ تیس لاکھ روپے سے زائد جرمانہ اور تمام منقولہ وغیرمنقولہ جائیداد ضبط کرنے کا فیصلہ انصاف کا خون ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے کارکن نہ کسی پر حملہ آور ہوئے تھے اور نہ ہی انہوں نے کسی کا قتل کیا۔انہوں نے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے مجرم آج تک آزاد ہیں، جلا ؤگھیراؤ،پی ٹی وی اور پارلیمنٹ پر حملے کرنے والے حکومت میں ہیں۔ آئین توڑنے والا آمر ملک سے باہر بیٹھا ہے۔کراچی کی سڑکوں پر خون کی ہولی کھیلنے اور وکلاء کو زندہ جلانے والے آج تک آزاد ہیں لیکن آئین پاکستان پر عملدرآمد کروانے کے لئے احتجاج کرنے پر تحریک لبیک کے امیر کے بھائی و دیگر مسلمانوں کو دہشتگردی کے ناجائز مقدمات چلا کر قید کردیا گیا ہے۔ٹی ایل پی کے ارکان سندھ اسمبلی نے کہاکہ ملکی اداروں اور عدالتوں کا احترام ہم سے زیادہ کوئی نہیں جانتا ہے۔ہم عدالتوں کا احترام کرتے ہیں مگر ایسے فیصلے جو غیر انسانی،غیر شرعی اور آئین کے منافی ہوں قبول نہیں کرینگے۔اے ٹی سی کے فیصلے کے خلاف اعلیٰ عدلیہ کے دروازے پر دستک دینا ہمارا قانونی وآئینی حق ہے،پاکستان کی تاریخ میں کسی دہشتگرد اور آئین شکنی کرنیوالوں کو کبھی ایسی سزا نہیں دی گئی،ملک کی اکثریت سمجھتی ہے کہ یہ سزاآئین وقانون کی روشنی میں نہیں منشا پر سنائی گئی ہے۔ٹی ایل پی کے رہنماؤں نے کہا کہ ملک میں اسلامی شعائر کا مذاق اڑانے کے لیے اسلام دشمن قوتیں سرگرم ہیں۔حال ہی میں ایک”زندگی تماشہ“ کے نام سے ایک فلم بنائی گئی ہےجسے رواں ماہ ہی ریلیز کرنے کی تیاری کی جارہی ہے۔اس فلم میں مذہبی شعائر کو نشانہ بناکر ایک بار پھر ملک کو نئی کشمکش میں مبتلا کرنے کی تیاری کی جارہی ہے۔تحریک لبیک پاکستان گزشتہ تین ماہ سے حکومتی اداروں کی توجہ سے اس فلم کی جانب سے دلارہی ہے لیکن اب تک اس کا کوئی نوٹس نہیں لیا۔فلم کی ریلیز نہ روکنے کے خلاف 22جنوری کو ملک بھر تحفظ ناموس ریلیاں نکالی جائیں گی جبکہ مرکزی ریلی لاہور میں داتادربار سے پنجاب اسمبلی تک نکالی جائے گی،جس سے امیر المجاہدین علامہ خادم حسین رضوی اور دیگر رہنما خطاب کریں گے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

قاسم پاشا کی گلیوں میں

آیا صوفیہ کے سامنے دھوپ پڑی تھی‘ آنکھیں چندھیا رہی تھیں‘ میں نے دھوپ سے بچنے کے لیے سر پر ٹوپی رکھ لی‘ آنکھیں ٹوپی کے چھجے کے نیچے آ گئیں اور اس کے ساتھ ہی ماحول بدل گیا‘ آسمان پر باسفورس کے سفید بگلے تیر رہے تھے‘ دائیں بائیں سیکڑوں سیاح تھے اور ان سیاحوں کے درمیان ....مزید پڑھئے‎

آیا صوفیہ کے سامنے دھوپ پڑی تھی‘ آنکھیں چندھیا رہی تھیں‘ میں نے دھوپ سے بچنے کے لیے سر پر ٹوپی رکھ لی‘ آنکھیں ٹوپی کے چھجے کے نیچے آ گئیں اور اس کے ساتھ ہی ماحول بدل گیا‘ آسمان پر باسفورس کے سفید بگلے تیر رہے تھے‘ دائیں بائیں سیکڑوں سیاح تھے اور ان سیاحوں کے درمیان ....مزید پڑھئے‎