علامہ خادم حسین رضوی کا جسد خاکی مینار پاکستان کے بجائے اب کہاں رکھا جائیگا؟عین موقع پر مقام تبدیل کردیا گیا

  ہفتہ‬‮ 21 ‬‮نومبر‬‮ 2020  |  13:06

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک، آن لائن )نجی ٹی وی 24نیوز کے مطابق علامہ خادم حسین رضوی کا جسد خاکی مینار پاکستان گرائونڈ کے بجائے آزادی چوک فلائی اوور پر رکھا جائیگا، تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ خادم حسین رضوی کی میت ایمبولینس میں رکھ کر لائی جارہی ہے،اس موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں ، ضلعی سکیورٹی انچارچ ٹی ایل پی حسن بٹ سمیت دیگر بھی موجود ہے ، ذرائع کے مطابق مولانا خادم حسین رضوی کا جسد خاکی صبح 9بجے اٹھایا گیا تھا ، 4گھنٹے بعد بھی قافلہ رواں دواں ہے، امکان ہے نماز ظہر کے بعد


ان کی نماز جنازہ ادا کر دی جائیگی ۔ علاوہ ازیں مولانا خادم حسین رضوی کے انتقال کے بعد تحریک لبیک کے نئے امیر کے نام پر بھی مشاورت شروع کردی گئی ہے ، روزنامہ ایکسپریس کے مطابق مولانا خادم حسین رضوی کے بڑے بیٹے ، تحریک کے نائب ناظم سعد رضوی اور تحریک کے مرکزی رہنما مولانا ڈاکٹر شفیق امینی کے ناموں پر غور کیا جارہا ہے اور دونوں میں سے کسی ایک کو ٹی ایل پی کا نیا امیر بنائے جانے کا امکان ہے ، ڈاکٹر شفیق امینی مولانا خادم حسین رضوی کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتے ہیں اور ان کی گرفتاری کے دوران تحریک لبیک کے قائم مقام امیر بھی رہ چکے ہیں۔علامہ خادم حسین رضوی گزشتہ چند روز سے سخت بیمار تھےتاہم بیماری کی حالت میں ہی وہ تین دن تک گستاخانہ خاکوں اور فرانس کے خلاف فیض آباد میں ہونے والے دھرنے کی نہ صرف قیادت کرتے رہے بلکہ 103 بخار ہونے کے باوجود سخت سردی میں ہی دھرنے کے شرکا کے ساتھ مسلسل موجود رہے،علامہ خادم حسین رضوی کو فیض آباددھرنے کے دوران وہیل چیئر پر ہی ڈاکٹرز نے ڈرپیں بھی لگائیں،ڈاکٹرز نے علامہ خادم حسین رضوی کو ہسپتال منتقل ہونے کا مشورہ بھی دیا تاہم انہوں نے دھرنے کی جگہ سے جانے سے انکار کر دیا تھا ۔دریں اثناتحریک لبیک کے سربراہ مولانا خادم حسین رضوی کی وفات کےبعد ان کے انتقال کی خبر سوشل میڈیا اور الیکٹرونک میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ بن گئی، لاکھوں افراد تعزیت کرتے ہوئے ان کے بارے میں کمنٹس سوشل میڈیا پر دیے ،تحریک لبیک یا رسول اللہ کے سربراہ مولانا خادم رضوی کے وفات کی خبر جیسے ھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو سوشل میڈیاپر ہر طرف ٹویٹر یوٹیوب فیس بک دیگر اکانٹس پر یہ خبر لمحوں ہی میں اتنی شیئر اور وائرل ہوئی کہ سوشل میڈیا پر ہر طرف ان کی انتقال کی خبر ہی زیر بحث رہی ،وزیراعظم وزیر اعلی اور وزرا سمیت ملک کے نامور اینکرز صحافیوں نے بھی اپنے فیس بک پیج پر مولانا رضویکی وفات کے حوالے سے ان کی زندگی کے بارے میں اور عالمی میڈیا بی بی سی سمیت دیگر پر شائع اور نشر ہونے والی ان کے دھرنوں کی خبروں کو لگا دیا ،اسی طرح مولانا رضوی کی وفات کے بعد بعد الیکٹرونک میڈیا نے بھی ان کی وفات کی خبر بریکنگ نیوز کے طور پر چلائیں ۔سوشل میڈیا پر علامہ رضوی کی وفات اور پھر سانس بحال ہونے کی خبریں بھی یکے بعد دیگرے سامنے آتی رھیں اور بڑے بڑے صحافیوں نامور کالم نگاروں نے بھی ان کی وفات اور دوبارہ سانس بحالی کو معجزہ بھی قرار دیا تاہم ضلع سرگودھا سمیت دیگر اضلاع میں ان کی جماعت سےوابستہ افراد نے ان کی وفات کو ناقابل تلافی نقصان قرار دیتے ہوئے ان کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی خدمات کو صدیوں یاد رکھا جائے گا، تحریک لبیک کے سربراہ مولانا علامہ خادم رضوی نے ختم نبوت کے معاملہ پر اور گستاخانہ خاکوں کے خلاف احتجاج کر کےانٹرنیشنل سطح پر شہرت حاصل کی اور میڈیا کی زینت بنے رہے اور ان کی وفات کے بعد ان کی سابقہ تقریروں کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوتی رہی اور لوگ اس کو بڑی تعداد میں دیکھتے سنتے رہے اور میڈیا پر وائرل ہوتی رہی ۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

ڈیڈ اینڈ

ارنسٹ ہیمنگ وے نوبل انعام یافتہ ادیب تھا اور یہ دہائیوں سے انسانی فکر کو متاثر کررہا ہے‘ ہم میں سے کم لوگ جانتے ہیں ہیمنگ وے نے اپنا کیریئر صحافی کی حیثیت سے شروع کیا تھا‘ یہ وار رپورٹر تھا‘ محاذ جنگ سے ڈائری لکھتا تھا اور لاکھوں لوگ اس کی تحریروں کا انتظار کرتے تھے‘ اس ....مزید پڑھئے‎

ارنسٹ ہیمنگ وے نوبل انعام یافتہ ادیب تھا اور یہ دہائیوں سے انسانی فکر کو متاثر کررہا ہے‘ ہم میں سے کم لوگ جانتے ہیں ہیمنگ وے نے اپنا کیریئر صحافی کی حیثیت سے شروع کیا تھا‘ یہ وار رپورٹر تھا‘ محاذ جنگ سے ڈائری لکھتا تھا اور لاکھوں لوگ اس کی تحریروں کا انتظار کرتے تھے‘ اس ....مزید پڑھئے‎