پاکستان دنیا بھر میں گردے کی بیماریوں کے حوالے سے کتنے نمبر پر ہے ؟ ماہرین نے بتا دیا

  بدھ‬‮ 20 مارچ‬‮ 2019  |  16:30
کراچی (این این آئی) سندھ انسٹیٹیوٹ آف یورلوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن (ایس آئی یو ٹی)نے عالمی یوم گردہ کے موقع پر اپنے ایس آئی یو ٹی دیوان فاروق میڈیکل سینٹر کراچی، ایس آئی یو ٹی پرائمری ہیلتھ کئیر سینٹرکاٹھور، ایس آئی یو ٹی چھبلانی میڈیکل سینٹر سکھر اور مِٹھی پریس کلب تھرپارکر میں تقریبات کا انعقاد کیا۔ گردوں کا یہ عالمی دن عالمی ادارہ صحت، انٹرنیشنل سوسائٹی آف نیفرولوجی اور انٹرنیشنل فیڈریشن آف کڈنی فانڈیشن کے باہمی اشتراک سے دنیا بھر میں ہر سال مارچ میں منایا جاتا ہے۔ اس سال کی تھیم گردوں کی صحت: ہر کسی کے لئے، ہر جگہ ہے۔اس دن کی تقریبات کا بنیادی مقصد لوگوں کو گردوں کی اہمیت اور افعال سے متعلق ضروری معلومات، گردوں کی بیماریوں کی تشخیص، بروقت علاج کے طریقے اور سب سے بڑھ کر گردوں کی بیماریوں سے بچا کی تدابیر کے بارے میں تفصیل سے آگاہی و معلومات فراہم کرنا ہے۔اس موقع پرایس آئی یو ٹی کے ماہرین گردہ نے اظہار خیال کرتے ہوئے بتایا کہ دنیا بھر میں گردوں کی بیماریوں کی شرح تیزی سے بڑھتی جا رہی ہے اور ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں 850ملین افراد گردوں کی بیماریوں سے متاثر ہیں۔گردوں کے دائمی ناکارہ ہونے کے مرض سے تقریبا2.4ملین اموات سالانہ ہوتی ہیں جو کہ عالمی سطح پر تیزی سے بڑھتی ہوئی اموات کی شرح میں چھٹے نمبر پر ہے۔انہوں نے کہا پاکستان گردوں کی بیماری کے حوالے سے آٹھواں ملک ہے جہاں گردے کی بیماریوں سے سالانہ 20ہزار اموات ہوتی ہیں۔ دائمی گردوں کی بیماری کی وجوہات میں ذیابیطس، گردوں کی سوزش(Glomerular Disease) اور ہائی بلڈ پریشر بڑی سرفہرست ہیں دیگر وجوہات میں درد کی ادویات کا بے جا استعمال،بعض حکیمی ادویات،گردوں کی موروثی بیماریاں، پیدائشی نقائص، پتھری کی بیماری، انفیکشنز،غیر صحت مند اور آلودہ ماحول اور ضعیفی وغیرہ شامل ہیں۔بد قسمتی سے گردوں کی بیماریوں کی علامات کے ظاہر ہونے سے پہلے ہی گردے بہت حد تک خراب ہوچکے ہوتے ہیں۔ گردوں کی بیماریوں کی چنداہم علامات پر روشنی ڈالتے ہوئے ماہرین نے کہا کہ اس میں چہرے اور پاں میں سوجن، تھکاوٹ، بھوک میں کمی، توجہ دینے میں مشکل ہونا، پیشاب میں خون کا آنا، پیشاب میں جھاگ کا پایا جانا،الٹیاں اور سانس میں تکلیف وغیرہ شامل ہیں۔گردوں کی بیماری سے بچا کے لئے سنہری اصول بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کم نمک اور کم گھی والی غذاکا استعمال کیا جائے،روزانہ ورزش کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں، ڈاکٹر سے باقاعدگی سے معائنہ کروائیں، شراب اور تمباکونوشی سے گریز کریں، اپنے وزن کا خاص خیال رکھیں، ذیابیطس کے مریضوں کو اپنے شوگر کی سطح کا خاص خیال رکھنا چاہیئے۔ اور ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کو اپنا بلڈپریشر کنٹرول رکھنا چاہیئے۔اس تقریب میں دن بھر کی سرگرمیوں میں لوگوں کے لئے نہ صرف مفت خون و پیشاب کے ٹیسٹ، قد، وزن، باڈی ماس انڈیکس(BMI)، اور بلڈ پریشر کی پیمائش بلکہ مفت میڈیکل چیک اپ ومشورہ، غذائی ماہرین کے معائنے و غذائی مشوروں کا بھی اہتمام کیا گیا تھا۔نیز گردوں کے جملہ امراض کے بارے میں لیکچرز دینے کے بعد سوال و جواب کی نشستیں بھی ہوتی رہیں اور متعلقہ بروشر اور پمفلٹ حاضرین میں تقسیم کئے گئے۔ اس موقع پر ماہرین امراض گردہ ڈاکٹرسرفراز سرور،ڈاکٹر منور خالق،ڈاکٹر تنزیل الرحمن،ذیابیطس کی ماہرڈاکٹرثوبیہ ناہید، ڈاکٹر فوزیہ مشتاق، اور غذائی ماہرنائلہ رشید و دیگر نے خطاب کیا۔ تقریب میں لوگوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

موضوعات:

loading...