قاضی ایاس کی فراست و بصیرت ضرب المثل ہے۔ ایک بار قاضی ایاس چند لوگوں کے ساتھ کھڑے تھے کہ کوئی خوفناک واقعہ پیش آیا، تین عورتیں بھی اسی جگہ موجود تھیں، قاضی ایاس نے کہا ’’ ان تین عورتوں میں سے ایک حاملہ، ایک مرضعہ(دودھ پلانے والی) اور ایک باکرہ (کنواری) ہے‘‘ تحقیق کرنے پر ان عورتوں کے متعلق قاضی ایاس کی بات درست نکلی، جب ایاس سے پوچھا گیا کہ آپ کو اس کا اندازہ کیسے ہوا؟
فرمانے لگے ’’حادثے کے وقت ان عورتوں میں سے ایک نے ہاتھ پیٹ پر رکھا، میں نے سمجھا حاملہ ہے، دوسری نے پستان پر رکھا میں نے نتیجہ نکالا کہ یہ مرضعہ ہے، تیسری نے اپنی شرمگاہ پر ہاتھ رکھا، میں نے اس سے اس کے باکرہ ہونے پر استدلال کیا، وجہ اس کی یہ ہے کہ خوف اور خطرے کے وقت انسان کو فطری طور پر اپنی سب سے زیادہ عزیز چیز کی فکر ہوتی ہے اوراسی پر ہاتھ رکھتا ہے‘‘۔ علامہ ابن خلکان نے قاضی ایاس کی فراست کا ایک اور دلچسپ واقعہ بھی لکھا ہے۔ مشہور صحابی حضرت انس بن مالکؓ کی عمر سو سال کے قریب ہو گئی تھی، بھوؤں کے بال سفید ہو چکے تھے، لوگ کھڑے رمضان کا چاند دیکھ رہے تھے، حضرت انسؓ نے فرمایا وہ سامنے چاند نظر آ گیا، لوگوں نے دیکھا، کسی کو دکھائی نہیں دے رہا تھا لیکن حضرت انسؓ افق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ’’وہ سامنے مجھے نظر آ رہا ہے‘‘۔ قاضی ایاس نے حضرت انسؓ کی طرف دیکھا، حقیقت سمجھ گئے، ان کی بھوؤں کا ایک بال آنکھ کی جانب جھک گیا تھا۔ قاضی ایاس نے وہ بال درست کرتے ہوئے پوچھا ’’ابوحمزہ! اب ذرا بتائیں چاند کہاں ہے؟‘‘۔ حضرت انسؓ افق کی طرف دیکھ کر فرمانے لگے ’’اب تو نظر نہیں آ رہا‘‘۔



















































