حضرت عیسیٰ ؑ سے کسی نے کہا کہ آپ اللہ تعالیٰ سے محبت کا ایک ذرہ بذریعہ دعا دلوا دیں، چنانچہ حضرت عیسیٰؑ نے فرمایا کہ تم اس کو برداشت نہیں کر سکو گے اس نے دوبارہو کہا کہ آدھا ذرہ دلوا دیں جواب ملا کہ اللہ تعالیٰ نے عطا فرما دیا ہے۔ چنانچہ حضرت عیسیٰؑ کچھ عرصے کے بعد اس شخص کو ملنے گئے تاکہ اس کاحال دریافت کریں اس کے پاس پہنچے تو وہ پیارا اللہ تعالیٰ کی محبت میں مست بیٹھا ہوا تھا۔
حضرت عیسیٰؑ نے اس کو کافی ہلایا مگر اس نے ایک نہ سنی وہ اللہ تعالیٰ کی محبت میں مست رہا نبی کو بھی نہ پہچان سکا۔اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰؑ کو فرمایا اے عیسیٰؑ کہ اگر آپ اس کے سر کے بالوں سے لے کر پاؤں کے ناخن تک ٹکڑے بھی کر دیں تو پھر بھی آپ کی طرف توجہ نہیں کرے گا۔ یہ آدھے ذرے والے کی محبت کا حال ہے۔محبت ہو تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ۔ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی سے بھی محبت ہو تو اس میں بھی خود غرضی یا نفسانی خواہش مطلوب نہ ہو بلکہ اس میں بھی حق تعالیٰ جل شانہ کی محبت کا ثبوت و ظہور ہونا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کی محبت بنیادی چیزہے تمام نیکیوں کے کرنے اور سب گناہوں سے بچنے میں اسی محبت کو دخل ہے جس کو جتنی زیادہ حق تعالیٰ سے محبت ہو گیاس کے لیے سلوک اوردین کے راستے اورآخرت کی تمام منزلیں آسان ہوتی چلی جائیں گی یہی وہ محبت ہے جو دار فانی (دنیا اور دارِ باقی (آخرت) میں عافیت اور سکون کا باعث ہے۔ کسی کی نماز محبت سے پڑھی جاتی ہے اور کسی کی بوجھ سمجھ کر اورکوئی گناہ سے بڑے شوق سے بچتا ہے اور کوئی بڑی مصیبت سے محبت والے کے اعمال و افعال و حرکات سب محبوب کی مرضی کے مطابق ہوتے ہیں۔ آئیے ہم چند اللہ والوں کے واقعات یاد کر لیں تاکہ ہمیں بھی دلی محبت کا شوق پیدا ہو۔



















































