ایک حکایت ہے کہ ایک بادشاہ شکار کیلئے نکلا مگر جنگل میں اپنے مُصاحِبوں سے بچھڑ گیا۔ اُس نے ایک کمزور اور غمگین نوجوان کو دیکھا جو انسانی ہڈّیّوں کو اُلَٹ پلَٹ رہا ہے ، پوچھا: تمھاری یہ حالت کیسے ہو گئی ہے ؟ اور اس سُنسان بِیابان میں اکیلے کیا کر رہے ہو؟ ، اُس نے جواب دیا: میرا یہ حال اِس وجہ سے ہے کہ مجھے طویل سَفَردر پیش ہے۔
دو مُوَکَّل( دن اور رات کی صورت میں ) میرے پیچھے لگے ہوئے ہیں اور مجھے خوف زدہ کر کے آگے کو دوڑا رہے ہیں یعنی جو بھی دن اور رات گزرتے ہیں وہ مجھے موت سے قریب کرتے چلے جا رہے ہیں ، میرے سامنے تنگ و تاریک تکلیفوں بھری قَبْرہے ،آہ ! گلنے سڑنے کیلئے عنقریب مجھے زیرِزمین رکھ دیا جائے گا ، ہائے !ہائے !وہاں تنگی و پریشانی ہوگی،وہاں مجھے کیڑوں کی خُوراک بننا ہوگا، میری ہڈّیّا ں جُدا جُدا ہو جائیں گی اور اسی پر اِکْتِفاء نہیں بلکہ اسکے بعدقِیامت برپا ہوگی جو کہ نہایت ہی کٹھن مرحلہ ہوگا ۔ معلوم نہیں بعد ازاں میرا جنّت ٹھکانہ ہوگا یا معاذَاﷲ جہنَّم میں جانا ہوگا ۔ تم ہی بتاؤ،جو اتنے خطرناک مَراحِل سے دوچار ہو وہ بھلا کیسے خوشی منائے؟ یہ باتیں سن کر بادشاہ رنج و ملال سے نڈھال ہو کر گھوڑے سے اُترا اور اُسکے سامنے بیٹھ کر عرض گزار ہوا : اے نوجوان!آپ کی باتوں نے میرا سارا چَین چھین لیا اور دل کو اپنی گَرِفت میں لے لیا ، ذرا ان باتوں کی مزید وَضاحت فرما دیجئے !تو اُس نے کہا ، یہ میرے سامنے جو ہڈّیّاں جمع ہیں انہیں دیکھ رہے ہو ! یہ ایسے باد شاہوں کی ہڈِّیاّں ہیں جنہیں دنیا نے اپنی زینت میں اُلْجھا کر فریب میں مُبتَلا کر دیا تھا، یہ خودتو لوگوں پر حُکومت کرتے رہے مگر غفلت نے انکے دلوں پرحُکمرانی کی ، یہ لوگ آخِرت سے غافِل رہے یہاں تک کہ انہیں اچانک موت آگئی!
ان کی تمام آرزوئیں دھر ی کی دھری رہ گئیں ، نعمتیں سَلْب کر لی گئیں ،قبروں میں ان کے جِسم گل سڑ گئے اور آج انتِہائی کَسمپُرسی کے عالَم میں انکی ھڈِّیّاں بِکھری پڑی ہیں۔ عنقریب انکی ہڈّیّو ں کو پھر زندگی ملے گی اور ان کے جِسم مکمَّل ہو جائیں گے، پھر انہیں انکے اعمال کا بدلہ ملے گا، اور یہ نِعمتوں والے گھر جنّت یا عذاب والے گھر دوزخ میں جائیں گے۔
اِتنا کہنے کے بعد وہ نوجوان بادشاہ کی آنکھوں سے اَوجھل ہو کرمعلوم نہیں کہاں چلا گیا ! اِدھر خُدّام جب ڈھونڈتے ہوئے پہنچے تو بادشاہ کا چہرہ اُداس اور اس کی آنکھوں سے سَیلِ اَشک رَواں تھا ۔ رات آئی تو بادشاہ نے لباسِ شاہی اتارا اور دو چادَریں جسم پر ڈال کر عبادت کیلئے جنگل کی طرف نکل گیا۔ پھر اسکا پتا نہ چلا کہ کہاں گیا۔



















































