فجر کی نماز پڑھنے کے بعد اللہ تعالیٰ سے دعا کرو کہ یا اللہ! یہ دن طلوع ہو رہاہے اور اب اس میں کارزار زندگی میں داخل ہونے والا ہوں۔اے اللہ! اپنے فضل و کرم سے اس دن کے لمحات کو صحیح مصرف پر خرچ کرنے کی توفیق عطا فرما کہ کہیں وقت ضائع نہ ہو جائے۔ کسی نہ کسی خیر کے کام میں صرف ہوجائے۔
حدیث شریف میں آتا ہے کہ جب سورج طلوع ہوتا تو حضور اقدسؐ یہ دعا پڑھاکرتے تھے کہ:اَلْحَمْدُلِلّٰہِ الَّذِیْ اَقَالَنَا یَوْمَنَا ھٰذَا وَلَمْ یُھْلِکْنَا بِذُنُوْبِنَا۔ ’’یعنی اس اللہ کاشکر ہے جس نے یہ دن ہمیں دوبارہ عطا فرما دیااور ہمارے گناہوں کی وجہ سے ہمیں ہلاک نہیں کیا۔‘‘ہرروز سورج نکلتے وقت یہ کلمات حضور اقدسؐ پڑھا کرتے تھے۔ مطلب یہ ہے کہ ہم تو اس کے مستحق تھے کہ یہ دن ہمیں نہ ملتا اور اس دن سے پہلے ہی ہم اپنے گناہوں کی وجہ سے ہلاک کر دیے جاتے لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے ہمیں ہلاک نہیں کیااور یہ دن دوبارہ عطا فرمایا۔ لہٰذا پہلے یہ احساس دل میں لائیں کہ یہ دن جوہمیں ملاہے یہ ایک نعمت ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے ہمیں عطا فرمادی ہے۔ اس دعا کے ذریعے حضور اقدسؐ یہ فرما رہے ہیں کہ ہر دن کی قدر اس طرح کرو جیسے ہم سب رات کے وقت ہلاک ہونے والے تھے مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے زندگی دے دی۔ اب یہ جو نئی زندگی ملی ہے وہ کسی صحیح مصرف میں استعمال ہو جائے۔یا اللہ ہر نئے دن کو ہمارے لیے خیر و برکت کا ذریعہ بنائیے۔ آمین۔اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں مناجات۔ حالات حاضرہ کے پیش نظر اس بات کی ضرورت ہے کہ ہم دن میں کوئی وقت مقرر کرکے اللہ تعالیٰ سے دنیا و آخرت کی بھلائیاں مانگیں۔
شرور و فتن سے پناہ مانگیں۔ جسمانی و روحانی امراض سے شفا چاہیں اور قرآن کریم کی تعلیم فرمودہ وہ دعائیں مانگیں جو حضرت انبیاءؑ نے اللہ تعالیٰ سے مانگیں اور محبوب خدا خاتم الانبیاؐ نے اپنی مبارک دعاؤں میں اللہ کے حضور مناجات کیں جوقبولیت کے زیادہ قریب ہیں۔ان دعاؤں کے مطالعہ کے بعد انسان اسی نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ انسان اپنی عقل و فہم سے بھی وہ ضروریات نہیں بیان کر سکتا جو حضورؐ اپنی دعاؤں کی صورت میں امت کو خزانہ دے گئے ہیں۔
حدیث شریف میں پریشانی میں پڑھنے کے لیے یہ دعا تلقین فرمائی گئی ہے آپ بھی صدق دل اور با آواز بلند اس دعا کو پڑھیے:لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ الْعَظِیْمُ الْحَلِیْمُ، لَا اِلہَ اِلَّااللّٰہُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ رَبُّ السَّمٰوَاتِ وَ رَبُّ الْاَرْضِ وَ رَبُّ الْعَرْشِ الْکَرِیْمِ یَاحَیُّ یَا قَیُّوْمُ لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ بِرَحْمَتِکَ اَسْتَغِیْثُ۔ پریشانیوں سے نجات کے لیے استغفار مجرب عمل ہے جس کا ان الفاظ میں پڑھنا مجرب ہے۔ اَسْتَغْفِرُاللّٰہَ الَّذِیْ لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ وَ اَتُوْبُ اِلَیْہِ۔ اسی طرح مصائب و مشکلات میں یہ قرآنی آیت پڑھنا بھی بے حد نافع ہے۔لَّآاِلٰہَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحٰنَکَ، اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ۔ اسی طرح دیگر قرآن و حدیث میں وارد صبح و شام کی دعائیں ہیں جن میں خیر ہی خیر ہے۔ اس کے لیے حکیم الامتؒ کارسالہ ’’مناجات مقبول‘‘ بہت نافع ہے۔ چلتے پھرتے بکثرت حَسْبُنَا اللّٰہُ وَ نِعْمَ الْوَکِیْلُ پڑھتے رہنا چاہیے۔



















































