اللہ تعالیٰ کادین ہمارے لیے دین و دنیا ہر دو لحاظ سے رحمت و نعمت ہے جس میں ہماری ہر چیز کا تحفظ بھی ہے اور خیر و برکت بھی۔ ایک آدمی خود اپنے بارہ میں اتنا مخلص نہیں ہو سکتا جس قدر سرور عالمؐ اپنی امت کے حق میں مخلص رہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے ہر موقع پر ایسے گراں قدر فرامین سے نوازا جو الفاظ کے اعتبار سے مختصر لیکن علم و عرفان کے اعتبارسے بحر بیکراں ہیں،
ایسے ہی ایک فرمان کا مطالعہ کرکے سکون حاصل کرتے ہیں۔عقبہ بن عامرؓ سے مروی ہے کہ میں نے حضورؐ سے عرض کیا، اے اللہ کے رسول! نجات کا راستہ کیاہے؟ اس سوال کے جواب میں حضورؐ نے تین نصیحتیں فرمائیں جن کے الفاظ اس قدر مختصر ہیں کہ یہ صرف پانچ سیکنڈ میں ادا ہو جاتے ہیں۔سنئے! آپ نے ارشاد فرمایا: اَمْلِکْ عَلَیْکَ لِسَانَکَ وَلْیَسَعَکَ بَتْیْکَ وَابْکِ عَلٰی خَطْیِءَتِکَ (مسند احمد)1۔ اپنی زبان کوقابومیں رکھو۔ یہ پہلی نصیحت ہے آپ دیکھیں کہ دنیا میں جتنے جھگڑے ہیں یہ سارے زبان سے شروع ہوتے ہیں۔ اس لیے کہا جاتا ہے کہ پہلے سوچو پھر بولو۔ اسی لیے حضورؐ فرما رہے ہیں کہ تم اپنی زبان کو قابو میں رکھو اوراپنی زبان سے کوئی ایسی بات نہ نکالو جو فتنہ و فساد اور بے ادبی کا ذریعہ بنے۔ اس جملہ کے ذریعے حضورؐ نے پوری دنیا کو امن کادرس دیا کہ زبان کو قابو میں رکھو گے تو سب لڑائی جھگڑے ختم ہو جائیں گے۔ 2۔ بلا ضرورت اپنے گھر سے مت نکلو۔یہ دوسری نصیحت ہے کہ ذکر و تلاوت نوافل و درود شریف کی کثرت سے اپنے گھر کووسیع کر لو۔ جو اپنے گھرمیں اللہ کا ذکرکرتا ہے اس کاچھوٹا سا گھر بھی بہت بڑا معلوم ہوتاہے، کیونکہ وہ اللہ والاہے اس کے برعکس جس آدمی کا گھر بہت بڑاہے اگر وہ گناہ کرتاہے تو اللہ تعالیٰ ساری دنیا کو اس کے لیے تنگ کر دیتے ہیں۔
حضرت سفیان ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں۔’’یہ زمانہ خاموش رہنے کا ہے اورگھروں سے چپکے رہنے کا ہے اوراللہ نے جو رزق دیا ہے اس پر مرتے دم تک قناعت کرنے کا ہے۔‘‘ مقصد یہ ہے کہ آدمی بلا ضرورت گھر سے باہر نہ نکلے صرف ضروری کاموں کے لیے جائے جیسے ذریعہ معاش، تجارت وغیرہ کے لیے جانا ہو اور جو رزق اللہ تعالیٰ نے دیا ہے اس پرقناعت کرے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا رہے۔
3۔ اپنی خطاؤں پر روتے رہو۔یہ تیسری نصیحت ہے آج کون شخص ہے جو یہ دعویٰ کرے کہ مجھ سے کبھی خطائیں نہیں ہوئیں، بلکہ ہر شخص جہاں اللہ تعالیٰ کی رحمت سے امید رکھے ہوئے ہے وہاں وہ اپنی خطاؤں کی وجہ سے لرزاں و ترساں بھی رہتا ہے کہ کہیں پکڑ نہ ہو جائے۔ اس لیے ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچنے کی کوشش کرتا رہے اور اپنی خطاؤں پر اللہ کے سامنے روتا رہے اور ندامت کے آنسو بہاتا رہے۔
اللہ تعالیٰ کے ہاں شہید کے خون کا قطرہ بھی بڑا قیمتی ہے اور اللہ کے سامنے رونے والے کی آنکھ سے جو آنسو نکلتاہے یہ قطرہ بھی اللہ کو بہت محبوب ہے حدیث شریف میں فرمایا گیا کہ اللہ کے سامنے روؤ اگر رونا نہ آئے تو رونے کی سی شکل بنا لو کہ اللہ تعالیٰ کو عاجزی اور آہ و زاری بہت پسند ہے کہ اس کے ذریعے آدمی ترقی کرتا ہے۔تو ان تین نصیحتوں میں حضورؐ نے نجات کا آسان راستہ بتا دیاہے۔ جب ایک ڈاکٹرکے انجکشن سے سیکنڈوں میں فائدہ ہو سکتا ہے تو اللہ کے رسولؐ کے پانچ سیکنڈ کے وعظ سے امت کے دل کی دنیا کیوں نہیں بدل سکتی؟ اللہ تعالیٰ ان جامع نصیحتوں پر عمل کی توفیق عطا فرمائیں۔



















































