مؤرخین نے لکھا ہے کہ کوفہ میں مُستَجابُ الدُّعا لوگوں کی ایک جماعت تھی، جب کوئی حاکم ان پر مسلط ہوتا تواس کیلئے بددعا کرتے وہ ہلاک ہو جاتا۔ حجاج کا جب وہاں تسلط ہوا تو اس نے ایک دعوت کی، جس میں ان حضرات کو خاص طور سے شریک کیا اور جب کھانے سے فارغ ہو چکے، تواس نے کہا کہ میں ان لوگوں کی بددعا
سے محفوظ ہو گیا کہ حرام کی روزی ان کے پیٹ میں داخل ہو گئی۔ اس کے ساتھ ہمارے زمانہ کی حلال روزی پر بھی ایک نگاہ ڈالی جائے، جہاں ہر وقت سود تک کے جواز کی کوششیں جاری ہیں۔ ملازمین رشوت کو اورتاجر دھوکہ دینے کو بہتر سمجھتے ہیں۔حلال و حرام کی تمیز نہیں ہے۔ دوسروں کے مال کو اپنا سمجھتے ہیں



















































