آپ اگر غور سے دیکھیں تو آپ کو اس دور میں ہرشخص مضطرب اور پریشان نظر آئے گا، جسے دیکھیں اسے روزگار، عزیز و اقارب کی اور دولت و احباب کی، حالات کی شکایت کرتاہوا پائیں گے۔ کسی کو سکون اور راحت حاصل نہیں بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ دورِ حاضر کا سب سے بڑا مسئلہ نہ جمہوریت ہے نہ حقوق ہیں نہ معاشی مسائل ہیں بلکہ سب سے بڑامسئلہ دل کے سکون اور اطمینان کا فقدان ہے
حالانکہ آج کے انسان کو راحت اور آسائش کے وہ وسائل اور سامان حاصل ہیں جن کا اس کے آباؤ اجداد نے کبھی تصور بھی نہ کیا ہوگا۔ یہ فراٹے بھرتی کاریں، یہ دنوں کا سفر گھنٹوں میں طے کرنے والے ہوائی جہاز، یہ نرم و گداز گدیلے، یہ فریج اور ائر کنڈیشنڈ، یہ ساری چیزیں ہمارے آباؤ اجداد کو کہاں حاصل تھیں۔ لیکن اس کے باوجود وہ ہمارے مقابلے میں زیادہ پرسکون زندگی گزارتے تھے اور ہم راحت کے تمام اسباب کے باوجود مضطرب اور پریشان ہیں بلکہ صورتحال تو کچھ ایسی ہوگئی کہ جن لوگوں کو زیادہ آسائشیں میسر ہیں وہ زیادہ پریشان ہیں۔چنانچہ مضطرب اوربے قرار انسان نے دل کاسکون حاصل کرنے کے لیے بے شمارغلط راستے اختیار کیے لیکن اسے سکون نہ مل سکا۔ کسی نے سوچا کہ راحت اورسکون اقتدار میں ہے، لیکن اقتدار ملنے کے بعد پتہ چلا کہ یہاں تو ایک لمحے کاسکون نہیں۔ عبدالرحمن اموی جو سپین میں پچاس برس تک مطلق العنان بادشاہ کی حیثیت سے حکومت کرتارہا، جب دنیا سے رخصت ہوا تولوگوں نے سناوہ کہہ رہاتھا، میں نے اپنی پوری زندگی میں صرف چودہ دن سکون کے دیکھے ہیں۔کوئی سمجھتا ہے کہ سکون دولت کی کثرت سے ملتا ہے لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ بڑے بڑے سرمایہ داروں کا یہ حال ہے کہ انہیں کاروباری اور دوسری پریشانیوں کی وجہ سے راتوں کو نیند نہیں آتی وہ خواب آور گولیوں کے بغیر سو نہیں سکتے۔
یونان کے کروڑ پتی تاجراور سٹائل اوناسسس کی بیٹی کرسٹینا اپنے باپ کی وارث اور یونان کی صنعت جہازرانی کی ملکہ ہے اس ساری دولت سے وہ دل کاسکون نہیں خرید سکتی۔ وہ ساری دنیا میں ماری ماری پھرتی ہے، اس نے کئی شادیاں کیں مگر پھربھی اسے سکون نہیں مل سکا۔کسی کاخیال ہے کہ اگر انسان کی جنسی خواہشات پوری ہو جائیں تو اسے سکون مل سکتاہے چنانچہ یورپ میں جنسی خواہشات کے لیے زنا عام کر دیاگیا۔زنا کاری اورلواطت کو قانونی تحفظ دے دیاگیا،
باہمی رضا مندی سے جب چاہیں، جہاں چاہیں جس سے چاہیں زنا ہوسکتاہے، بیویوں کاآپس میں تبادلہ ہوسکتاہے، عورتیں کرائے پر مل جاتی ہیں۔ انڈیانا اسٹیٹ میں ایک شہر آباد ہے جس میں چھوٹے بڑے، مرد اور عورت سب مادر زاد ننگے رہتے ہیں لیکن اتنی آزادی کے باوجود اضطراب کایہ عالم ہے امریکا میں ہرتین میں ایک قتل ہوتاہے۔ہر تیرہ سیکنڈ میں ایک زنا بالجبر کیاجاتاہے۔ ہر اکیاسی سیکنڈ میں کوئی زبردست ڈاکہ پڑتاہے۔
کسی کی سوچ یہ ہے کہ منشیات کے استعمال سے سکون ملتا ہے لیکن کون نہیں جانتا منشیات نے کتنے گھرانوں کو تباہ کر دیا ہے اورلاکھوں انسانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیاہے۔یہ تمام ذرائع انسان کو حقیقی سکون نہیں دے سکے اور انسان سکون کی تلاش میں دیوانوں کی طرح مارا مارا پھر رہاہے، اب خدا کی طرف سے پکار آتی ہے۔ میرے بندے تو نے دولت کے انبار لگائے مگر تجھے سکون نہ مل سکا۔تو نے وزارتیں اوربادشاہتیں حاصل کرلیں مگر تجھے سکون نہ مل سکا۔تو نے رقص و سرور کی محفلیں جمائیں لیکن تجھے سکون نہ مل سکا۔
تو نے فحاشی، عریانی اور بدکاری کی انتہا کر دی مگر تجھے سکون نہ مل سکا۔تو نے جوئے اور سٹے کا بازار گرم کیا مگر تجھے سکون نہ مل سکا۔تو نے ساغراور مینا، شراب، ہیروئن، چرس اوربھنگ کااستعمال کردیکھا مگر تجھے سکون نہ مل سکا۔ تو نے نت نئے فیشن اختیار کیے مگرتجھے سکون نہ مل سکا۔تو نے کوہ پیمائی کی مہمیں سر کیں مگرتجھے سکون نہ مل سکا۔تو نے کھیلوں میں کمال حاصل کر لیامگر تجھے سکون نہ مل سکا۔تو نے سمندروں اور صحراؤں کوچھان مارا مگر تجھے سکون نہ مل سکا۔
تو چاند ستاروں تک جا پہنچا مگرتجھے سکون نہ مل سکا۔تو نے سائنسی علوم سے حیرت انگیز مشینیں بنا لیں مگر تجھے سکون نہ مل سکا۔آ! بھولے بھٹکے مسافرمیرے دروازے پرآ، میں تیرا رب ہوں، میں تیری ضروریات کا کفیل اور مالک ہوں۔ میں تجھے حصولِ سکون کا راستہ دکھاؤں گا۔ یہ چیزیں تجھے سکون نہیں دے سکتیں۔اوظلوم اور جہول انسان تو بھی کتنا پگلا ہے، انگاروں پہ بیٹھاہے اورچاہتاہے مجھے ٹھنڈک نصیب ہو۔گندگی کے ڈھیر پر بیٹھ کر چاہتاہے کہ مجھے خوشبو کے دلنواز جھونکے آئیں۔
کانٹوں پر بستر بچھایا ہے اور چاہتا ہے کہ چبھن نہ ہو۔تیل چھڑک کر تیلی جلاتا ہے اور چاہتاہے آگ بھی نہ لگے۔اپنے خالق اور مال کوبھلا رکھا ہے اور چاہتا ہے کہ مجھ پر پریشانیاں بھی نہ آئیں۔او میرے پاگل بندے۔تجھے نہ سیم و زر کی چھنا چھن سکون دے سکتی ہے۔نہ تخت و تاج تیرے دل کے اضطراب کو دور سکتاہے۔نہ رقص و سرور اور میوزک تیری قلبی بیماریوں کا علاج ہے۔نہ زنا کاری اور فحاشی تجھے مطمئن رکھ سکتی ہے۔نہ منشیات کا استعمال تیرے قلب و دماغ کو سکون دے سکتاہے۔
اگرتجھے سکون ملا تومیری یاد کی چھاؤں میں ملے گا۔میرے ذکر کی خوشبو سے ملے گا۔اَلَابِذِکْرِاللّٰہِ تَطْمََءِنُّ الْقُلُوْبُ۔ تمہیں دل کاسکون اور سچی خوشی اللہ کے ذکر کے بغیر کبھی حاصل نہیں ہوسکتی، تم جب تک گناہوں کو نہیں چھوڑو گے تمہاری پریشانیاں کبھی دور نہیں ہوں گی۔آئیے! آج ہم عہد کریں کہ آج کے بعد ہم کبھی بھی زندگی کے کسی شعبے میں بھی کتاب و سنت کی مخالفت نہیں کریں گے۔ پھر دیکھئے گا ہمیں سکون قلب کیسے حاصل ہوتا ہے۔ ہماراگھرجنت کا نقشہ پیش کرے گا۔ہمیں روکھی سوکھی روٹی میں وہ لذت نصیب ہوگی جو امراء کومرغن غذاؤں میں نصیب نہیں ہوتی۔ ہمیں گھاس پھونس کے بستر پرایسی نیند آئے گی جو اللہ کے باغیوں کو حریر و کمخواب کے بسترپر نہیں آتی۔



















































