حضرت ہشیم رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت جعفر صادق رحمتہ اللہ علیہ کے بعض شاگردوں اور رفقاء نے مجھے بتایا کہ وہ ایک مرتبہ حضرت جعفر صادق رحمتہ اللہ علیہ سے ملنے گئے۔ آپ کے سامنے آپ کے صاحبزادے حضرت موسیٰ کاظم رحمتہ اللہ علیہ بیٹھے تھے اور آپ اپنے صاحبزادے کو یہ نصیحت فرما رہے تھے: ’’اے میرے پیارے بیٹے! میری وصیت و نصیحت یاد کرو اور اس پر عمل کر۔
اس سے تیری زندگی بھی سعادت مند اور قابل رشک ہو گی اور موت بھی قابل صد تعریف ہوگی۔‘‘(1) ’’اے میرے پیارے بیٹے! جو شخص اللہ تعالیٰ کی تقسیم رزق پر راضی ہو جائے وہ غنائے قلبی کے ذریعے مستغنی رہتا ہے اور جو غیر کے مال پر طمع یا حسد کے طور پر نگاہ رکھے وہ فقیر و مسکین ہی مرتا ہے اور جوشخص اللہ تعالیٰ کے دئیے ہوئے رزق پر راضی نہ ہو وہ اللہ جل جلالہ پر برے اور غلط فیصلے کرنے کی تہمت لگاتا ہے (جو انتہائی تباہ کن بات ہے)۔(2) اور جو شخص اپنے گناہ کو کم سمجھے وہ غیر کے گناہ کو بڑا سمجھتا ہے (اور یہ بڑی بری بات ہے) اور جو غیر کے گناہ کو کم سمجھے اور وہ اپنی لغزش اور اپنے گناہ کو بڑا اور نہایت خطرناک سمجھتا ہے (اور اپنے گناہ کو بڑا سمجھنا نیک بختی کی علامت ہے)۔(3) جو شخص دوسروں کے عیوب ظاہر کرے تو اس پاداش میں کسی وقت اس کے اور اس کے اہل خانہ کے چھپے ہوئے عیوب ظاہر ہو جائیں گے۔ (لہٰذا دوسروں کی پردہ دری سے اپنے آپ کو بچاؤ)۔(4) جو شخص شر و فساد کی تلوار نیام سے باہر نکالتا ہے (عینی فساد برپا کرنے کے لیے تلوار نکالتا ہے) تو وہ خود اسی تلوار سے قتل کیا جاتا ہے۔ (لہٰذا سرکشی اور شر و فساد سے اپنے نفس کو محفوظ رکھو۔)(5) جو شخص دوسروں کی ہلاکت کے لیے گڑھا کھودے تو وہ خود اس میں گر کر تباہ ہو گا۔
(6) جو بے وقوفوں اور بے دینوں کے ساتھ رہتا ہو وہ حقیر و ذلیل سمجھا جاتا ہے اور جو علماء و اولیاء کی صحبت میں رہتا ہو وہ معزز و محترم سمجھا جاتا ہے۔(7) جو شخص بری اور ناپسندیدہ جگہوں میں جائے وہ متہم ہوتا ہے۔ یعنی لوگ اسے بھی برا سمجھتے ہیں۔(8) اے پیارے بیٹے! لوگوں پر عیب کی تہمت نہ لگانا، ورنہ وہ بھی مقابلے میں تجھ پر تہمت لگائیں گے۔(9) بے فائدہ امور میں نہ گھسنا، ورنہ ذلیل ہو جاؤ گے۔
(10) اے پیارے بیٹے! حق بات کہا کر، خواہ وہ دنیاوی لحاظ سے تیرے لیے مفید ہو یا غیر مفید۔ اس بات کے ذریعے اپنے ہم عمروں میں تیری شان بلند رہے گی۔(11) اے پیارے بیٹے! قرآن پاک کی تلاوت کثرت سے کیا کر (کیونکہ یہ بہت بابرکت کلام ہے)۔(12) اشاعت اسلام کی کوشش کیا کر (کیونکہ یہ مسلمان کا فرض ہے)۔(13) امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کیا کر (یعنی لوگوں کو نیک کام کرنے اور برے کام چھوڑنے کی تبلیغ کیا کر، کیونکہ تبلیغ بہت ضروری ہے)۔
(14) اور جو رشتہ دار جھگڑ کر یا کسی اور وجہ سے تجھ سے رشتہ توڑ دے تو، تو محبت و احسان سے اس رشتے کو جوڑنے کی کوشش کیا کر اور جو عزیز اور دوست قطع تعلق کرکے تجھ سے بات کرنا چھوڑ دے تو، تو پہل کرکے اس کو منانے کی کوشش کیا کر۔(15) جو شخص تجھ سے کچھ مانگے تو حسبِ استطاعت اسے کچھ دیا کر۔(16) چغلی (یعنی ایک شخص کی بات دوسرے شخص تک شرارت کی نیت سے پہنچانے کی بری خصلت) سے بچا کر، کیونکہ چغلی سے دلوں میں افتراق اور بغض پیدا ہوتا ہے۔
(17) لوگوں کے عیوب کے درپے نہ ہوا کر، کیونکہ یہ کام اپنے آپ کو لوگوں کی زبانوں کا نشانہ بنانے کے مترادف ہے۔(18) اے پیارے بیٹے! جب کسی سے کچھ مانگنا ہو تو معدنِ جود یعنی شریف النسب انسان سے مانگ۔ کیونکہ جو دو سخاوت کے اپنے معدن یعنی مرکز ہوتے ہیں اور معدن کے اصول ہوتے ہیں اور اصول کے فروغ اور فروع کا ثمر یعنی پھل ہوتا ہے اور پھل کا شیریں ہونا اصل کا مرہون منت ہے اور اصل کا ثابت و محکم ہونا پاکیزہ معدن یعنی پاکیزہ نسب پر موقوف ہوتا ہے۔
(19) اے پیارے بیٹے! اگر کسی سے ملاقات کرنی ہو تو علماء کی زیارت و ملاقات کر اور فاجروں کی صحبت سے بچ ، کیونکہ فاجر لوگ اس چٹان کی طرح ہیں، جس سے ذرہ بھر پانی نکلنے کی توقع نہیں ہوتی اور اس خشک درخت کی طرح ہیں، جس کے پتے کبھی سرسبز نہیں ہوتے اور اس زمین کی طرح ہیں جس پر کبھی گھاس نہیں اگتی۔علی بن موسیٰ بن جعفر رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ’’میرے والد موسیٰ بن جعفر رحمتہ اللہ علیہ موت تک اسی نصیحت پر کاربند رہے۔‘‘



















































