حضرت مفتی رشید صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے ایک واقعہ سنایا کہ دارالافتاء کے عقب میں اوپر کی منزل والے روزانہ دارالافتاء کے اندر کوڑا پھینک دیا کرتے تھے۔ انہیں کئی بار کہلوایا، مگر کوئی اثر نہ ہوا۔ کسی نے مجھ سے کہا کہ ’’ایک ٹرک پتھروں کا منگوا لیتے ہیں اور ان پر برساتے ہیں تو ان کا دماغ درست ہو جائے گا۔‘‘میں نے کہا کہ ’’نہیں، یہ مناسب طریقہ نہیں۔‘‘
پھر میں نے پڑوسی کو کہلوایا کہ ’’میں آپ سے ملاقات کرنا چاہتا ہوں۔ لیکن معلوم نہیں کہ آپ کس وقت گھر پر ہوتے ہیں اور فارغ اوقات کیا ہیں؟‘‘میرا یہ پیغام سن کر وہ میرے پاس خود ہی آ گئے۔ میں نے کہا کہ ’’میں آپ کو کچھ ہدایا وغیرہ دینا چاہتا ہوں۔ اس لیے خیال ہوا کہ پہلے کچھ جان پہچان ہو جائے تو بہتر ہے۔‘‘وہ کہنے لگے کہ ’’یہ تو ہمارا فرض ہے کہ ہم ہدایا دیا کریں، ہماری بدقسمتی ہے کہ اب تک محروم ہے۔‘‘میں نے کوڑے کے ڈھیر کی طرف اشارہ کرکے کہا کہ ’’نہیں، آپ کے ہاں سے تو بہت وافر مقدار میں ہدایا آتے رہتے ہیں، ٹوکروں کے ٹوکرے اس لیے تو خیال ہوا کہ مجھے بھی احسان کا بدلہ دینا چاہیے:ھل جزاء الاحسان الا الاحسان (55، 60)جب آپ کے ہاں سے اس قدر ہدایا آتے رہتے ہیں تو مجھے بھی تو کچھ دینا چاہیے۔‘‘ وہ بہت نادم ہوئے اور اس کے بعد ان کے گھر سے کوڑا آنا بند ہو گیا۔
صرف ایک بات زندگی میں انقلاب برپا کر دیتی ہے
بڑے بڑے مقررین اور جادو بیان خطیب تقریریں کرتے ہیں، وقتی طور پر بڑے بڑے اجتماع ان کی تقریروں کو سنتے بھی ہیں۔ لیکن اکثر تقریریں ختم ہونے کے ساتھ ہی فضاء میں تحلیل ہو جاتی ہیں اور بعض اللہ کے نیک بندے نہ تقریر کرنا جانتے ہیں، نہ ان کو خطابت کے انداز آتے ہیں۔
سیدھی سادھی مختصر بات کہتے ہیں اور وہ دلوں میں اتر کر ہزاروں انسانوں کی زندگی میں انقلاب پیدا کر دیتی ہے۔ اخلاص عمل کے راستہ میں نام و نمود، جذبہ شہرت اظہار، علم، مالی منفعت وغیرہ رکاوٹ بنتے ہیں۔ لیکن اگر انسان ان چیزوں کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے نظرانداز کر دے تو یہ فوائد مع زوائد کے اللہ تعالیٰ خود بخود حاصل کرا دیتے ہیں۔ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لیے دنیا کو ٹھوکر مار دیتے ہیں، اللہ تعالیٰ دنیا کو ان کے قدموں میں تابع بنا کر ڈال دیتے ہیں۔



















































