اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

شاہ اسمٰعیل شہید رحمتہ اللہ علیہ اور شاہ اکبر ثانی کا واقعہ

datetime 8  مئی‬‮  2017 |

شاہان مغلیہ کے عہد زوال کے ایک بادشاہ اکبر شاہ ثانی گزرے ہیں۔ ان کی بادشاہت کے دور میں جبکہ انگریزوں کا دہلی اور دہلی کے نواح و اطراف میں قبضہ ہو چکا تھا لال قلعہ اور جامع مسجد وغیرہ پر ان کا تسلط نہیں تھا۔ اسی دوران ایک دن مولانا اسمَعیل شہید رحمتہ اللہ علیہ جامع مسجد کے حوض پر بیٹھے ہوئے اصحاب ارادت و عقیدت و وعظ کو نصیحت فرما رہے تھے۔

تھوڑی دیر میں مجاوروں نے جامع مسجد کے ایک حجرے سے تبرکات کے نام سے کچھ چیزیں نکالیں۔ وہ چیزیں آنحضرتؐ کی طرف منسوب موئے مبارک اور نعلین شریف تھیں ان کو مجاوروں نے ہاتھ میں لیا اور باہر نکالتے ہی حاضرین میں جن جن لوگوں نے دیکھا سلام کیا۔ ادب و احترام سے سروقد کھڑے ہوگئے۔لیکن جب مولانا اسمَعیل شہید رحمتہ اللہ علیہ کے پاس سے گزرے تو نہ انہوں نے کھڑے ہو کر احترام کیا اور نہ ان کے اصحاب مجلس نے تکرم کی۔ جب یہ مجاور حضرات تبرکات کو لے کر لال قلعہ تک پہنچے تو اکبر شاہ ثانی کے ملاحظہ میں ان تبرکات کو پیش کرتے ہوئے رونے لگے۔ دوبارہ استفسار پر کہنے لگے ’’ان تبرکات کی توہین ہو گئی۔‘‘ واقعہ کے طور پر کہا کہ ’’ان تبرکات کو لے کر ہم لوگ جامع مسجد سے نکلے تو ہر ایک نے تکریم و تعظیم کی، لیکن مولانا اسمَعیل شہید رحمتہ اللہ علیہاور ان کے حلقہ کے لوگ جامع مسجد میں بیٹھے رہے اور ان تبرکات کی کوئی تکریم ہی نہیں کی۔‘‘ بادشاہ نے ان کو انعام دے کر رخصت کیا اور کہا کہ ہم مولانا اسمَعیل شہید رحمتہ اللہ علیہ کو بلا کر ان سے دریافت کریں گے اور ہرکارہ مولانا اسمَعیل شہید رحمتہ اللہ علیہ کی خدمت میں بھیج دیا۔مولانا اسمَعیل شہید رحمتہ اللہ علیہ کے پاس ہرکارہ پہنچا تو انہوں نے خط کے جواب میں لکھا ’’میں اس وقت مقرر پر حاضر ہو جاؤں گا اور سلام مسنون کرکے آپ کے پاس بیٹھ جاؤں گا۔

میں جھک جھک کر سات مرتبہ فرشی سلام کو نہیں اختیار کروں گا جو آپ کے سامنے علماء و حاضرین دربارکیا کرتے ہیں۔‘‘مشورہ کے لیے شاہ عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ کے پاس آئے۔ انہوں نے فرمایا ’’تم کو جانے سے انکار کرنا چاہیے۔ ہم لوگ کسی تقریب کے موقع پر بلائے جاتے ہیں۔ ہاتھ کے ہاتھ نہیں بلائے جاتے۔‘‘تو مولانا نے کہا ’’میں نے تو جانے کا فیصلہ کر لیاہے۔‘‘

تو شاہ عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ ’’جب تم نے فیصلہ کر لیا ہے تو جاؤ، لیکن انگریز ریذیڈنٹ کو خبر دو تاکہ بادشاہ کوئی غلط قدم تمہارے معاملے میں نہ اٹھائے۔‘‘فرمایا ’’میں انگریز ریذیڈنٹ کے پاس نہیں جاؤں گا، میرا توکل صرف اللہ پر ہے۔‘‘ اور شاہ عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ کو یہ آیت کریمہ سنائی:قل لن یصیبنا الاماکتب اللہ لنا ھو مولانا و علی اللہ فلیتوکل المومنون۔یعنی ’’ہمیں کوئی ضرور نہیں پہنچے گا، مگر یہ کہ تقدیر الٰہی میں جو کچھ پہلے سے لکھا ہو وہ ہمارا آقا ہے اور اہل ایمان اسی پر بھروسہ کرتے ہیں۔‘‘

چنانچہ آپ لال قلعہ میں تشریف لے گئے اور اکبر شاہ ثانی لال قلعہ سے اٹھ کر شاہی محل میں چلا گیا۔ پھرمولانا اسمَعیل شہید رحمتہ اللہ علیہ شاہی محل میں پہنچ گئے۔ اکبر شاہ ثانی جہاں بیٹھے تھے وہیں آپ بھی السلام علیکم کہہ کر بیٹھ گئے۔ بادشاہ نے کہا ’’آپ حضرات کی زیارت و ملاقات کا شرف بہت کم مل پاتا ہے۔ آج کی آپ کی تشریف آوری سے ہمیں بڑی سعادت حاصل ہوئی۔ ہم چاہتے ہیں کہ آنحضورؐ کی سیرت پاک سے آپ ہمیں کچھ سنائیے۔‘‘

آپ نے وعظ فرمانا شروع کیا اور سیرت پاک کے ان واقعات کو بیان کیا جن میں رسول اللہؐ کو دعوت و تبلیغ کے موقع پر ابوجہل وغیرہ سے تکلیف پہنچی تھی اور جو تکلیف طائف کی تبلیغ کے موقع پر وہاں کے شریر اور اوباش لڑکوں نے حضورؐ کو پہنچائی اور بدن پر ریت اور کنکر کی بوچھاڑ کی تھی اور تیراندازوں نے تیروں کی بارش کرکے آپؐ کے بدن کو زخمی کر دیا تھا۔ آپؐ کے جسم سے خون بہہ کر ایڑیوں میں پہنچا جو جوتے سے چپک گیاتھا۔

زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے آپؐ کو بچانے کی بہت کوشش کی، لیکن آپ رضی اللہ عنہ بھی زخمی ہوئے۔جب وہاں سے مایوس لوٹنے لگے تو ایک حوض کے کنارے زخموں کو دھونے کے لیے زید رضی اللہ عنہ نے پاؤں سے آپؐ کے جوتے کو نکالنا چاہا تو ہاتھ سے نکل نہ سکا۔ زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے اپنے دانت سے جوتے کوکھینچا، زید رضی اللہ عنہ کا ایک دانت بھی ٹوٹ گیا، پھر جوتا پاؤں سے الگ ہوا۔

اسی دوران آپؐ کوالقاء ہوا کہ کوئی فرشتہ کہہ رہا ہے کہ اگر آپؐ اجازت دیں تو طائف والوں کو ان ہی دونوں پہاڑوں کے درمیان پیس کرکے رکھ دیاجائے تواس مظلومیت کے وقت بھی آپؐ نے یہ دعا فرمائی کہ ’’اے اللہ! ایسا نہ کر، میری قوم کو ہدایت دے، اپھی اپنے نبی کو نہیں پہچانتی۔ شاید کہ ان کی ذریت اور آئندہ نسلوں میں ایسے لوگ پیدا ہوں جو اسلام قبول کریں، ایمان باللہ اور ایمان بالرسول کے شرف سے مشرف ہوں۔‘‘

حضورؐ کی اس دعوت و تبلیغ کے ایسے پردرد و پرتاثر واقعات کو بیان فرمایا کہ اکبر شاہ ثانی رونے لگا اور مولانا اپنی پرکشش اور پرتاثیر باتیں بیان فرماتے رہے، کئی رومال اس کے آنسوؤں سے تر ہو گئے۔ جب مولانا اسمَعیل شہید رحمتہ اللہ علیہ نے سمجھا کہ اب بہت رو چکا تو اپنی تقریر کے لب و لہجہ کو ہلکا کیا۔ دھیرے دھیرے بادشاہ کی سسکیاں باقی رہ گئیں۔ مولانا نے بھی اپنے وعظ کی گرمی کو مدھم کیا اور آخر میں وعظ ختم کرکے بیٹھ گئے۔

اس پر اکبر شاہ ثانی نے کہا کہ ’’اس نبیؐ کی محبت میں اور اس کی دعوت و تبلیغ کے پرتاثیر واقعات کے بیان میں آپ خود بھی روتے ہیں اور دوسروں کو بھی رلاتے ہیں تو اس نبیؐ کے تبرکات سے آپ نے کوئی محبت کیوں نہ فرمائی اور ان کی تکریم و تعظیم آپ نے کیوں نہ کی؟‘‘مولانا نے فرمایا ’’وہ تبرکات کیسے ہوں گے اور نبیؐ کے نعلین شریف اور موئے مبارک کا ثبوت کہاں سے ملا کہ وہ حضورؐ ہی کی چیزیں ہیں۔‘‘تو بادشاہ نے کہا ’’ہمارے دادا بابر شاہ کے عہد سے یہ تبرکات آئی تھیں اور وہیں سے دہلی لائی گئیں۔‘‘

مولانا نے فرمایا ’’بادشاہوں کے پاس تبرکات کے نام سے چیزیں لانے والے لاتے ہیں اور بادشاہ ان کو انعام دے کر رخصت کر دیتا ہے اور تبرک کی چیزوں کو قبول کر لیتا ہے، لیکن ان کی کون سی سند ہے کہ ان کی لائی ہوئی چیزیں اصلاً حضورؐ کی ہیں۔‘‘ پھر مولانا نے فرمایا کہ ’’آپ کے یہاں صحیح بخاری شریف ہو تو منگوائیے۔‘‘بادشاہ کے حکم سے صحیح بخاری شریف کتب خانے سے آ گئی۔ اکبر شاہ ثانی اور مولانا بدستور بیٹھے رہے۔

مولانا نے صحیح بخاری شریف کو ہاتھ میں لیا اور کہا ’’صحیح بخاری کی تمام احادیث رسول اللہؐ کی طرف صحیح نسبت رکھتی ہیں۔ آپؐ کے تمام اقوال اور آپ کے تمام افعال کے سامنے کیے گئے۔ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے افعال سب کے سب اس میں اصلی نسبت کے ساتھ موجود ہیں۔ یہ گنجینۂ عامہ جو نبیؐ کی صحیح نسبتوں کا مجموعہ ہے، لیکن آپ نے اور ہم نے اس کی کوئی تعضیم نہیں کی اور ان مشکوک نعلین اور موئے مبارک کی آپ نے تعظیم کی جن کا کوئی ثبوت نہیں کہ یہ چیزیں رسول اللہؐ کی طرف واقعی نسبت رکھتی ہیں؟

علاوہ ازیں اگر وہ تبرک کی چیزیں تھیں تو ان کی زیارت آپ کو وہاں جا کر کرنی تھی نہ یہ کہ وہ چیزیں آپ کے پاس لائی جاتیں۔ مثل ہے کہ پیاسا کنویں کے پاس جاتا ہے، کنواں پیاسے کے پاس نہیں لایا جاتا۔ اگر وہ چیزیں خیر و برکت کی تھیں تو آپ کو وہاں جانا چاہیے۔‘‘اس کے بعد اکبر شاہ ثانی لاجواب ہوگیااور مولانا نے اکبر شاہ ثانی سے مزید کہا کہ ’’اپنے جس نانا جان کی محبت میں ابھی آپ رو رہے تھے، ان کا فرمان آپ کو کیا نہیں معلوم کہ یہ سونے کے کنگن جسے آپ پہنے ہوئے ہیں،

آپ کے نانا جان نے مردوں پر حرام کیاہے۔‘‘اکبر شاہ ثانی نے فوراً کہا کہ ’’میرے نانا جان نے جب اس کو حرام ٹھہرایا تو اس کو میں فوراً نکالتا ہوں۔ آپ بھی اس کنگن کو ہاتھوں سے نکالنے میں مدد فرمائیے۔‘‘جب دونوں کنگن نکل گئے تو اکبر شاہ ثانی نے کہا کہ ’’میرے دربار میں پچاسوں علماء آج بھی موجود ہیں جن کی پوری طرح خبرگیری اور کفالت کرتاہوں لیکن کسی نے نہیں بتایا کہ میرے ناناجان نے سونے کو حرام کیا ہے، ورنہ میں کب کا نکال چکا ہوتا۔‘‘

پھر مولانا سے اکبر شاہ ثانی نے کہا کہ ’’میرے دونوں کنگن ہمراہ لیتے جائیے گا اور فقیروں کو دے دیجئے گا۔‘‘مولانا نے فرمایا کہ ’’آپ اسے خود اپنے ذریعہ سے صدقہ کیجئے۔ اگر میں اسے لے جاؤں گا تو آپ کے درباری علماء یہی کہیں گے کہ اسمَعیل آیا تھا اور بادشاہ کے سونے کے کنگن اینٹھ کر لے گیا۔ یہ آپ کا فرض ہے کہ آپ اس کو فقراء میں تقسیم کرا دیں۔‘‘

اکبر شاہ ثانی نے مولانا کو بڑی عزت و احترام کے ساتھ رخصت کیا۔ سواری کے لیے گھوڑا دیا۔ سات پارچہ خلعت دیا اور شاہی خوان غلاموں کے ساتھ گھر بھیج دیا۔ اکبر شاہ ثانی نے مولانا کی بہت عزت و تکریم کی تھی۔ یہ اس کی علم دوستی اور علمائے اسلام کی قدردانی اور سرپرستی کا ایک نادر واقعہ تھا۔ اس طرح اور بھی علماء نوازی اور معارف پروری کے واقعات کا اندازہ کیاجا سکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…