امی امی رمضان بازار چلیں۔۔ کیا ہوا بیٹا خیر تو ہے۔ہاں امی سُنا ہے بہت سستی چیزیں مِل رہی ہیں۔ ہماری تو چینی بھی ختم ہو چُکی ہے نا!۔ ماں کی آنکھوں میں خوشی کی آنسو آگئے اور ماتھے کو چُومتے ہوئے کہا،، میرا لال کتنا بڑا ہو گیا ہے۔ جی امی جی۔ ارے سکینہ ذرا میری چادر تو پکڑانا، یہ لیں امی۔ ویسے کہاں جا رہی ہیں۔ ارے بیٹا سستی چینی مِل رہی ہے رمضان بازار میں، اللہ بھلا کرے حُکمران کا۔
اچھا امی جی پھر پُورے مہینے کیلئے ہی لے آیئے گا۔ ماں نے 52 روپے کے حِساب سے 520 روپے لئے اور اپنے بیٹے کو ساتھ لے کر رمضان بازار چل دی، بڑی مُشکِل سے پیدل بازار پہنچے تو ایک جگہ کافی رش تھا۔ ماں نے کسی سے پوچھا ارے بھیا یہاں اتنا رش کیوں ہے۔ ارے کُچھ نہیں باجی، چینی مِل رہی ہے۔ ماں جی حیران کہ اتنی سستی چینی جو اتنا رش ہوا ہے۔ ماں جی وہاں پہنچی تو صورتِ حال دیکھی، 200 عورتوں کی لائن میں کھڑی ھو گئ۔۔ اللہ اللہ کر کے باری آ ہی گئئ، ماتھے سے پسینہ صاف کرتے ہوئے ماں نے کہا ارے بھیا 10 کِلو چینی تو دینا۔۔ لو ! ارے بی بی پاگل ہو گئی ہو کا،،، اِس میں پاگل والی کیا بات ہے۔ بی بی چینی صرف 2 کِلو مِلے گی، لا شناختی کارڈ دِکھا ماں جی کی صورت دیکھنے قابل بھی نا تھی۔ معصوم سے لہجے میں بولی دیکھو بھیا اِس میں شناختی کارڈ کی کیا ضرورت ہے بھلا، میں بچے کو سکول میں داخل کروانے تو نہیں آئی۔ ذیادہ بک بک کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہمارا وقت نہ ضائع کرو اور لوگ بھی کھڑے ہیں، بھیا شناختی کارڈ اب کہاں اتنی دُور سے لاوں گی، آدھے گھنٹے کا سفر ہے۔۔ اب تو ویسے بھی 2 گھنٹے سے کھڑی تھک چُکی ہوں، اِتنا کہنا تھا کہ بچہ ذمین پہ گِر پڑا ، ماں چِیخی کیا ہوا میرے صدام کو، لوگوں نے اُٹھایا لیکن بچہ بے ہوش ہو چُکا تھا۔ اِتنے میں چینی والا بولا ارے او بی بی، اب کیا رو رہی ہو،، مرا تو نہیں نا ذندہ ہے ابھی آجائے گا ہوش اِسے۔
چل اب دُوسروں کو چینی لینے دے۔۔ ماں کی آنکھوں سے آنسو نہیں رُک رہے تھے، اوکھے سوکھے بچے کو گود میں اُٹھایا اور پاس ہی ہسپتال میں لے گئی۔ ڈاکٹر نے چیک اپ کر کے کہا بی بی جی ڈرِپ لگے کی آپ کے بیٹے کو تب ہی اِس کی کمزوری ختم ہو گی۔ ڈاکٹر صاحب کتنے پیسے بنیں گے۔ 700 کاونٹر پہ جمع کروا دیں، ، جی میرے پاس تو صرف 520 ہیں باقی پھر دے جاوُں گی۔
بی بی ڈرپ لگوانے آئی ہو، چینی لینے نہیں۔ ماں کی بھیگی آنکھیں بہنے لگیں، اور کہا بس اِسے ہوش میں لا دیں۔ ڈاکٹر نے، اِنجکشن لگایا۔ دوائی دی، اور کُچھ دیر بعد بچے کو ہوش آگیا، ڈاکٹر صاحب کتنے پیسے، 300 بی بی جی۔ 500 دیا، 200 بقایا لیا آنسو صاف کیئے، بچے کو اُٹھایا، اور گھر کی طرف چل دی۔ گھر پہنچی تو سکینہ نے پُو چھا، امی اتنی دیر، اور چینی نہیں لائی آپ، ماں کی آنکھوں میں پھر آنسو آگئے اور کہا، بیٹا میرے پاس شناختی کارڈ نہیں تھا اور اب کوئی سوال نہ پُو چھنا۔



















































