ایک انگریز گورنر نے اپنی میم کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضری کی اجازت چاہی۔ وہ میم کے ساتھ زیارت کے لیے پہنچ گیا۔ یہ انگریز کی حکومت کا زمانہ تھا۔ جب لوگ سپاہی سے اتنا ڈرتے تھے کہ آج کل صدرمملکت اور وزیراعظم سے بھی اتنا نہیں ڈرتے۔ جب وہ پہنچے گورنر تو سامنے چٹائی پر بیٹھ گیا اور ایک کونے میں مٹکا اوندھا رکھا ہوا تھا۔ جس پر بہت گرد و غبار پڑا ہوا تھا۔
میم سے فرمایا کہ ’’بی! تم اس پر بیٹھ جاؤ۔‘‘ اسے وہاں بندریا کی طرح بٹھا دیا۔
معافی کا اِک بہانہ
علماء نے شیطان کے پیدا کرنے کی ایک حکمت یہ بھی لکھی ہے کہ اگرانسان دنیا میں آتا اور شیطان نہ ہوتا اور یہ اپنے نفس کی وجہ سے برائی کرتا تو پھر اس کی معافی کے چانس ختم ہو جاتے اور کہا جاتا کہ اس نے خود برائی کی۔ اس لیے اب معافی نہیں ہوسکتی اور اب چونکہ شیطان پیدا ہو چکا ہے اور وہ بھی ورغلاتا ہے اس لیے اللہ رب العزت قیامت کے دن جن کو معاف کرنا چاہیں گے ان کا سارا بوجھ شیطان کے سر پر ڈال دیں گے اور اللہ تعالیٰ معاف فرمائیں گے کہ میرے ان بندوں کو شیطان نے بہکایا تھا، لہٰذا اب میں ان کو معاف کرکے جنت میں داخل کر دیتا ہوں۔
مخلص کی کیا علامت ہے
امام ثوری رحمتہ اللہ علیہ کے پاس جب ان کی لاعلمی میں کوئی حاکم آتا اور آپ مدرسہ اشرفیہ جامع بنی امیہ میں پڑھاتے ہوتے تو اس کے آنے سے مکدر ہوتے اوراگر انہیں معلوم ہو جاتا کہ آج کوئی رئیس ان کی ملاقات کو آئے گا تو اس دن سبق نہ پڑھاتے۔ اس خیال سے کہ آپ کو کوئی بڑے حلقہ میں بیٹھا نہ دیکھ لے اور فرماتے، مخلص کی علامت یہ ہے کہ اگر لوگوں کو اس کی خوبی معلوم ہو تو رنجیدہ ہو، کیونکہ نفس کا اس پر خوش ہوناگناہ ہے۔ بسا اوقات ریا اکثر گناہوں سے بدتر ہوتی ہے۔



















































