کسی گاؤں میں بارش نہیں ہو رہی تھی۔ نماز استسقاء کا اعلان ہوا۔ گاؤں کے لوگ ایک میدان میں جمع ہوگئے۔ کسی نے دیکھا، ایک گیارہ سالہ بچی بھی چھتری لیے آ رہی تھی۔ جب وہ لوگوں کے پاس میدان میں پہنچی تو ایک صاحب نے ان سے کہا ’’بیٹی! ہم تو ابھی بارش کی دعا مانگنے جا رہے ہیں، تم چھتری لے کر کیوں آئی ہو؟‘‘جواب میں بچی نے معصومیت سے کہا۔
’’جب ہم دعا مانگ کر واپس آ رہے ہوں گے، اس وقت تو بارش ہو رہی ہو گی نا۔‘‘
آٹھ کا ہندسہ اور خلیفہ معتصم باللہ
عباسی خلیفہ معتصم باللہ کی زندگی میں آٹھ کا ہندسہ بڑی اہمیت کا حامل تھا۔ معتصم باللہ کا پورا نام ابو اسحاق محمد بن ہارون تھا۔ معتصم باللہ مشہور عباسی خلیفہ ہارون الرشید کی آٹھویں اولاد تھے۔ معتصم باللہ کے آٹھ بیٹے اور آٹھ ہی بیٹیاں تھیں۔ وہ 218ھ میں مامون کے بعد بنو عباس کے حکمران بنے۔ بنو عباس کی خلافت میں ابو العباس السفاح، ابو جعفر منصور، محمد مہدی بن منصور، موسیٰ بن مہدی، ہارون الرشید بن مہدی، محمد امین بن ہارون اور عبداللہ المامون بن ہارون کے بعد ان کا آٹھواں نمبر تھا۔ وہ 218 ھ سے ربیع الاول 227ء تک بنو عباس کی خلافت پر متمکن رہے۔ یہ مدت بھی تقریباً آٹھ سال بنتی ہے۔ معتصم باللہ اور آٹھ کے ہندسے کا یہ تعلق یہیں ختم نہیں ہوگیا۔ مشہور مورخ خطیب کا بیان ہے کہ انہوں نے اپنے آٹھ سالہ دور خلافت میں کل آٹھ ملک فتح کیے۔ ان کے متعلق مشہور عالم علامہ سید سیوطی رحمتہ اللہ علیہ کا کہنا ہے کہ ان کے عہد میں مختلف علاقوں کے جو حکمران اسیر ہوئے ان کی تعداد بھی آٹھ ہی تھی۔



















































