حضرت عبداللہ بن اوفی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے جناب نبی کریمؐ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا ’’یا رسول اللہؐ! ایک نوجوان شخص وقت نزع کے عالم میں ہے، اس کو کلمہ طیبہ تلقین کیا جاتا ہے، لیکن اس کے منہ سے یہ کلمہ ادا نہیں ہو رہا ہے۔‘‘آپؐ نے دریافت فرمایا کہ کیا وہ شخص اس کلمہ کو اپنی زندگی میں نہیں کہتا تھا؟‘‘لوگوں نے عرض کیا ’’وہ برابر کلمہ گو رہا ہے۔‘‘
تو رسول اللہؐ نے فرمایا کہ ’’جو شخص زندگی بھر یہ کلمہ کہتا رہا، آخر وقت میں کلمہ جاری نہ ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔‘‘ (یعنی ضرور اس کو آخر وقت میں کلمہ نصیب ہو جانا چاہیے۔)پھر رسول اللہؐ اٹھے اور ہم بھی آپؐ کی ہمراہی میں چلے۔ آپؐ اس نوجوان کے پاس پہنچے تو آپؐ نے فرمایا ’’لاالہ الااللہ پڑھو۔‘‘ تو نوجوان نے عرض کیا اس کلمہ کی ادائیگی پر قادر نہیں ہوں۔‘‘آپؐ نے پوچھا ’’اس کی کیا وجہ ہے؟‘‘اس نوجوان نے کہا ’’اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ میں اپنی والدہ کی نافرمانی کرتا تھا۔‘‘ (اس لیے اس کی بددعا لگی ہوگی)۔آپؐ نے پوچھا ’’کیا تیری والدہ زندہ ہے؟‘‘تو اس نے کہا ’’ہاں!‘‘آپؐ نے آدمی بھیج کر اس جوان کی والدہ کو بلوایا۔ جب وہ خاتون دربار نبویؐ میں حاضر ہوئی تو آپؐ نے اس خاتون سے پوچھا ’’کیا یہ تیرا بیٹا ہے؟‘‘اس خاتون نے کہا۔ ’’ہاں‘‘تو آپؐ نے فرمایا ’’اگر آگ دہکائی جائے اور یہ کہا جائے کہ تو اس بیٹے کی سفارش نہ کرے گی تو تیرے بیٹے کو آگ میں ڈالا جائے گا۔‘‘تو اس خاتون نے کہا کہ ’’اس وقت میں ضرور اس کی سفارش کروں گی۔‘‘تو آپؐ نے فرمایا کہ ’’پھر اللہ تعالیٰ اور ہم سب کو گواہ بنا کر کہہ دے کہ میں نے اس کو معاف کر دیا اور میں اس بیٹے سے راضی ہوگئی۔‘‘چنانچہ ماں نے رضا مندی کا اظہار کیا۔ پھر نبی کریمؐ نے اس قریب المرگ جوان سے فرمایا ’’لاالہ الااللہ کہہ۔‘‘
تو اس نے واضح الفاظ میں صاف صاف لاالہ الااللہ پڑھا تو رسول اللہؐ نے خوش ہو کرفرمایا ’’تمام تعریفں اس رب کریم کے لیے ہی جس نے میری وجہ سے اس نوجوان کو جہنم کی آگ سے نجات دی۔‘‘
فائدہ:ماں کا اپنی اولاد پر بہت بڑا احسان ہے، پیدا ہونے سے پہلے حمل کے زمانہ سے ہی قسم قسم کی مشقتیں برداشت کرتی ہے۔ پھر پیدائش کے وقت کی تکلیف، پھر بچپن میں اولاد کو راحت پہنچانے کی خاطر ہر طرح کی تکلیفیں برداشت کرتی ہے۔
سردی کی راتوں میں کئی کئی مرتبہ اٹھ اٹھ کر پیشاب، پاخانہ دھلانا، دودھ پلانا اور کبھی بچہ بیمار ہو جائے تو رات بھر جاگ کر اولاد کو راحت پہنچانا وغیرہ۔۔۔ یہی انسان جس وقت جوان ہوتا ہے اپنی قوت کو، مال و دولت کو، بیوی بچوں کو دیکھتا ہے۔ دوسری طرف ماں باپ کو دیکھتا ہے کہ ماں باپ کئی قسم کی بیماریوں میں مبتلا ہیں، جسمانی قوت سے محروم ہیں۔
اولاد کو زندگی کا آخری سہارا سمجھ کر اپنی ضروریات زندگی کے لیے محتاج اور کمزور و ناتواں ہاتھوں کو آسمان کی طرف اٹھا کر طویل طویل دعائیں مانگتے ہیں کہ ’’ارے ربا! میری اولاد کو خوشحال زندگی عطا فرما۔‘‘جب بیٹا کام کاج سے فارغ ہو کر گھر آتا ہے، ماں آگے بڑھ کر پسینہ صاف کرتی ہے اور ٹھنڈی آہ بھرتی ہے۔ ان سب کے باوجود بیٹا سمجھتا ہے یہ بوڑھے ماں باپ میرے اوپر بوجھ ہیں۔ میری عیاشی میں مخل ہیں۔
مجھے اضافی خرچہ برداشت کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے بات بات پر ماں باپ کو جھڑکتا ہے۔ بیوی بچوں کی ہر خواہش پوری کرتا اور ماں باپ کو روکھی سوکھی کھلاتا ہے۔ ایسی اولاد کوخوب غورکرناچاہیے اور مذکورہ بالا واقعہ سے عبرت حاصل کرنی چاہیے۔ اپنی موت اور موت کے بعد کی زندگی کو بھی یاد رکھنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ اپنے دین کی سمجھ عطا فرمائے۔ آمین۔



















































