حضرت خواجہ ابراہیم بن ادھم رحمتہ اللہ علیہ ایک بار راستہ سے گزر رہے تھے کہ ایک مست جوان گھوڑے پر سوار سامنے آیا اور خواجہ کو زور سے کوڑا مار کر کہا ’’یہ شراب کا مٹکا سر پر اٹھا لے۔‘‘خواجہ صاحب سر پر مٹکا اٹھا کر چل دئیے اور اس کے گھر پہنچا دیا۔ وہاں ایک گویا سارنگی بجا رہا تھا۔
جب خواجہ نے شراب کا مٹکا اتارا تو اس جوان نے طنبورہ گویے کے ہاتھ سے لے کر خواجہ صاحب کے سر مبارک پر اس زور سے مارا کہ نہ صرف سر پھٹ گیا اور خون بہنے لگا بلکہ گویا کا طنبورہ بھی ٹوٹ گیا۔خواجہ صاحب باہر آئے اور دریائے دجلہ پر جا کر کپڑے اور سر خون آلودہ دھویا۔ درویشوں کی شان ہی نرالی ہوتی ہے، ان کی سوچ بھی دنیا سے الگ ہوتی ہے اور ان کے ذہن کی پرواز بھی عام ذہنوں سے بہت بلند ہوتی ہے۔ اب خواجہ صاحب کو اپنے سر پھٹنے کی کوئی فکر یا غم نہ تھا بلکہ غم تھا تو یہ تھا کہ میری وجہ سے بے چارے گویے کا طنبورہ ٹوٹ گیا اور کچھ تھا نہیں۔ گھر آ کر ایک مصلیٰ لیا اور بازار میں لے جا کر بیچ دیا۔ پھر اس نوجوان کے گھر جا کر نصف قیمت مصلیٰ اس کے نذر کی اور کہا کہ ’’تم نے جو طنبورہ میرے سر پر اٹھا کر مارا، مبادا تمہارے ہاتھ کو کچھ رنج پہنچا ہو۔ یہ اس کا شکرانہ قبول کیجئے۔‘‘جب جوان نے یہ خوش خلقی خواجہ صاحب کی دیکھی تو اپنی پگڑی گردن میں ڈال کر قدموں میں گر پڑا اور خالص دل سے توبہ کی۔ پھر جناب خواجہ صاحب وہاں سے اس گویے کے گھر گئے اور باقی نصف قیمت مصلیٰ کی اس کے روبرو رکھی اور فرمایا ’’میرے سر کی وجہ سے تمہارا طنبورہ ٹوٹا ہے، یہ شکرانہ عوض اس کا قبول ہو۔‘‘ اس نے بھی جب جناب خواجہ صاحب کا خلق حسن دیکھا تو رویا اور آپ کے قدموں پر گر کر تائب ہوا۔
چھینکنے کے آداب
ایک محفل میں ایک شخص کو اوپر تلے زور دار قسم کی کئی چھینکیں آئیں، آس پاس بیٹھے افراد کے منہ بن گئے۔ ہم نے سوچا، کہیں ایسا نہ ہو کہ کسی محفل میں آپ کی وجہ سے دوسروں کے منہ بن جائیں، لہٰذا چھینکنے اور تھوکنے کے آداب اپنے نبیؐ سے کیوں نہ سیکھ لیے جائیں۔جی ہاں! نبی رحمتؐ نے چھینکنے اور تھوکنے کے بھی آداب بتائے ہیں اور کیوں نہ بتاتے،
آپؐ تو اپنی امت پر ایک ماں سے نہ جانے کتنے درجے زیادہ مہربان تھے۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ’’رسول اللہؐ جب چھینکتے تو منہ اور ناک پر ہاتھ یا کپڑا رکھ لیتے تھے، آواز کو کم سے کم کر لیتے تھے۔‘‘ (ابو داؤد۔ ترمذی)جدید تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ بہت سے امراض کھانسی اور چھینک سے دوسروں میں منتقل ہوجاتے ہیں۔ ایک چھینک میں ایک سیکنڈ کے اندر گیارہ لاکھ ذرات ہوا میں پھیلتے ہیں۔ ان ذرات میں جراثیمی نو آبادیات یعنی کالونیاں قائم کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔
یہ ذرات بارہ سے تیس منٹ تک پھیلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ نصف گھنٹے تک فضا میں تیرتے رہتے ہیں۔ اس طرح ان میں انفلوائنزا، بچوں میں چیچک، خسرہ، خناق، وبائی، کالی کھانسی، نمونیا اور دق کے جراثیم شامل ہو کر امراض پیدا کرنے کا سبب بن سکتے ہیں۔برملا چھینکیں مارنے کی طرح سرعام تھوکنا اور جگہ جگہ ناک صاف کرنا بھی اچھی بات نہیں، مطلب یہ کہ یہ حکم ہر جگہ کے لیے ہے۔ بہت سے موذی امراض مثلاً دق اور سل وغیرہ تھوک کے ذریعے پھیلتے ہیں۔ لہٰذا تھوکنے میں بھی احتیاط کریں۔ اِدھر اُدھر نہ تھوکتے پھریں۔



















































