آپ (حضرت محبوب الٰہی) نے شیخ عثمان رحمتہ اللہ علیہ کے حالات بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ:اگر کوئی شخص ان کے پاس آتا اور کھوٹا درہم دے کر جو کچھ ان کے پاس پکا ہوتا اسے خریدنا چاہتا تو وہ اس سے درہم لے لیتے، اگرچہ انہیں پتا ہوتا تھا کہ درہم کھوٹا ہے، لیکن وہ خریدار کے منہ پر کچھ نہ کہتے۔ نیز جو کھرا درہم لاتا اسے بھی اسی طرح پورا سالن دیتے۔
حتیٰ کہ لوگوں کو گمان ہونے لگا کہ یہ کھوٹے اور کھرے سکے میں امتیاز نہیں کر سکتے۔چنانچہ بہت سے لوگ آ تے اور انہیں کھوٹے درہم دیتے۔ جنہیں وہ کھرا سمجھ کر لے لیتے۔ مگر ان پر ظاہر نہ کرتے اور انہیں سالن دے دیتے۔ جب ان کے انتقال کا وقت آیا تو انہوں نے اپنا منہ آسمان کی طرف کیا اور کہا ’’اے خداوند تعالیٰ! تو دوسروں سے زیادہ آگاہ ہے کہ لوگ مجھے کھوٹے درہم دیتے تھے، اور میں انہیں کھرا سمجھ کر قبول کر لیتا اور ان کو رد نہ کرتاتھا۔ اگر مجھ سے بھی کھوٹی عبادت عمل میں آئی ہے تو، تو اسے اپنی عنایت سے قبول فرما لینا اور اس کو رد نہ کرنا۔‘‘
ہجرت پر اللہ کے ہاں مقام
حضرت مولانا بدر عالم صاحب رحمتہ اللہ علیہ جو ہمارے بزرگوں میں سے گزرے ہیں، یہ ہجرت کرکے مدینہ طیبہ چلے گئے تھے۔ آج کل تو ہجرت کرنا کوئی مشکل نہیں ہے۔ اس لیے کہ آج لوگ پیسے کمانے کے لیے ہجرت کرتے ہیں، کیونکہ وہاں پیسے بہت ملتے ہیں۔ اصل ہجرت تو اس زمانے کی تھی جب وہاں پیسوں کا کوئی مسئلہ نہیں تھا، صرف اللہ اور اللہ کے رسولؐ ہی کے لیے ہجرت ہوتی تھی۔بہرحال آپ نے اس طرح ہجرت فرمائی کہ ایک عرصے تک وہاں اس حال میں رہے کہ آپ کا کوئی ذریعہ آمدنی نہیں تھا۔
عقل حیران ہوتی ہے کہ وہ وقت آپ نے کس طرح گزارا ہو گا؟چنانچہ خود اپنا واقعہ سنایا کرتے تھے کہ جب میں پہلی مرتبہ مدینہ منورہ گیاتو وہاں کسی سے جان پہچان تو تھی نہیں، ایک کمرے میں جو تنگ و تاریک تھا، قیام کیا، وہاں مجھے بخار آ گیا، اب وہاں پر نہ کوئی آنے والا نہ جانے والا، نہ مجھے کوئی دیکھنے والا، شدید بخار میں مبتلا اور تین دن مجھ پر اس طرح گزرے کہ ایک دانہ بھی میرے منہ میں نہیں گیا۔ شدید بخار کی وجہ سے خود اٹھ کربھی حرم نہیں جا سکتا تھا۔
کمزوری کی وجہ سے وہاں پر نماز پڑھنا مشکل ہو رہا تھا۔تین دن کے بعد ایک شخص میرا نام ’’بدر عالم۔۔۔ بدر عالم‘‘ پکارتا ہوا آیا، اپنے ساتھ کچھ دوا اور کھانا بھی لایا۔ حضرت مولانا نے اس شخص سے پوچھا کہ ’’تمہیں کیسے پتہ چلا کہ میرا نام بدر عالم ہے؟ اور میں یہاں پر ہوں؟‘‘اس شخص نے بتایا کہ میں نے ایک خواب دیکھا اور خواب میں نبی کریمؐ کی زیارت ہوئی۔ آپؐ نے یہ نام بتایا اور کہا کہ جا کر ان کو دیکھو، وہ فلاں جگہ پر بیمار پڑا ہوا ہے، اور اس کی خبر گیری کرو۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ مقام عطا فرمایا تھا۔



















































