اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

تکبیر تحریمہ فوت ہو جانے کا غم

datetime 5  مئی‬‮  2017 |

مولانا ارسلان بتاتے ہیں کہ آپ سوچیں گے کہ یہ تو پرانے زمانے کی بات ہے، میں آپ کو قریب کے زمانے کا واقعہ سناتا ہوں۔ فقیہ العصر حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی نوراللہ مرقد کا شاید آپ نے نام سنا ہوگا۔ وہ مرشد اور پیر بھی تھے، ہر وقت مریدوں کا جھمگٹا لگا رہتا تھا، اصلاح اور تزکیہ کا سلسلہ جاری رہتا تھا، وہ اپنے دور کے مفتی اعظم بھی تھے، پورے ہندوستان، بلکہ بیرون ہندوستان سے بھی استفتاء آتے رہتے تھے،

جن کے وہ علمی اور تحقیقی جوابات دیا کرتے تھے۔ وہ ایک کامیاب مدرس اور استاد بھی تھے، علم کے پیاسے دور دور سے آتے تھے اور پیاس بجھاتے تھے۔اس کے ساتھ ساتھ آپ صاحب عیال تھے، اس لیے ظاہر ہے کہ اہل و عیال کے حقوق بھی ادا فرماتے تھے اور گھر میں بھی کچھ نہ کچھ وقت دیتے تھے۔ لیکن ان تمام ذمہ داریوں اور مشاغل کے باوجود صرف نماز کا نہیں بلکہ نماز باجماعت کا اس قدر اہتمام تھا کہ بائیس برس تک تکبیر تحریمہ فوت نہیں ہوئی۔ان کے حالات میں لکھا ہے کہ دیوبند میں دستار بندی کا جلسہ ہو رہا تھا۔ اس میں ایک دن غالباً عصر کی نماز میں ایسا اتفاق پیش آیا کہ مولانا محمد یعقوب صاحب رحمتہ اللہ علیہ نماز پڑھنے کے لیے مصلے پر کھڑے ہو گئے۔ حضرت گنگوہی رحمتہ اللہ علیہ کسی عذر کی وجہ سے تھوڑی سی تاخیر سے پہنچے، لیکن آپ کے نماز میں شامل ہونے سے پہلے تکبیر تحریمہ ہو گئی تھی۔ سلام پھیرنے کے بعد دیکھا گیا کہ وہ عظیم انسان جو بڑے بڑے حوادث میں پریشان نہیں ہوتا تھا، جو عزیزوں کی موت کی خبر بھی بڑے صبر اور سکون سے سنا کرتاتھا، جس کے چہرے پر غربت اور تنگ دستی کی وجہ سے کبھی پریشانی کے اثرات ظاہر نہیں ہوتے تھے، جو بیماریوں اور تکلیفوں کو بھی خاطر میں نہیں لاتا تھا، آج اس کے چہرے پر رنج و غم کے بادل چھائے ہوئے تھے۔ تلامذہ کو فکرلاحق ہوئی۔ مرید پریشان ہو گئے۔

اہل تعلق نے رنج و غم کی اس کیفیت کو فوراً پہچان لیا۔ پوچھاگیا ’’حضرت اتنے غمزدہ کیوں ہیں؟ کیا کوئی حادثہ پیش آ گیا ہے؟‘‘آپ نے بڑے رنج کے ساتھ فرمایا ’’افسوس، بائیس برس کے بعد تکبیر تحریمہ فوت ہوگئی۔‘‘بائیس برس زبان سے کہہ دینا آسان ہے، مگر اس پر عمل کرکے دکھانا مشکل ہے۔ عام لوگوں کے ہاں بزرگی کا معیار کرامت ہے، وہ بزرگ ایسے شخص کو مانتے ہیں جس سے کوئی کرامت ظاہر ہو۔ جس سے زیادہ کرامتیں ظاہر ہوں وہ بڑا بزرگ اور جس سے کم کرامتیں ظاہر ہوں وہ چھوٹا بزرگ اور جس سے کوئی کرامت بھی ظاہر نہ ہو وہ بزرگی سے خارج!

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…