ایک مرتبہ کسی یہودی کے مکان کے قریب آپ نے کرایہ پر مکان لے لیا اور آپ کا حجرہ یہودی کے دروازے سے متصل تھا۔ چنانچہ یہودی نے دشمنی میں ایک ایسا پرنالہ بنوایا جس کے ذریعے پوری غلاظت آپ کے مکان میں ڈالتا رہتا اور آپ کی نماز کی جگہ نجس ہو جاتی۔ بہت عرصہ تک وہ یہ عمل کرتا رہا۔ لیکن آپ نے کبھی شکایت نہیں کی۔
ایک دن اس یہودی نے خود ہی آپ سے عرض کیا کہ ’’میرے پرنالے کی وجہ سے آپ کو کوئی تکلیف تو نہیں؟‘‘آپ نے فرمایا کہ ’’پرنالہ سے جو غلاظت گرتی ہے اس کو جھاڑو دے کر روزانہ دھو ڈالتا ہوں، اس لیے مجھ کو کوئی تکلیف نہیں۔‘‘یہودی نے عرض کیا کہ ’’آپ کو اتنی اذیت برداشت کرنے کے بعد بھی کبھی غصہ نہیں آیا۔‘‘فرمایا کہ ’’خدا تعالیٰ کا یہ حکم ہے کہ جو لوگ غصہ پر قابو پا لیتے ہیں، نہ صرف ان کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں بلکہ انہیں ثواب تھی حاصل ہوتا ہے۔‘‘یہ سن کر یہودی نے عرض کیا کہ ’’یقیناً آپ کا مذہب بہت عمدہ ہے، کیونکہ اس میں معاندین کی اذیتوں پر صبر کرنے کو اچھا کہا گیا ہے اور آج میں سچے دل سے اسلام قبول کرتا ہوں۔‘‘
کپڑا لاؤ مرد آ گیا
میں ایک بزرگ تھے مولانا فرید الدین صاحب رحمتہ اللہ علیہ اور ان کے زمانہ میں ایک مجذوبہ تھی، وہ ننگی پھرا کرتی تھی۔ اس سے کسی نے پوچھا کہ ’’تو پردہ کیوں نہیں کرتی۔‘‘اس نے کہا ’’بیلوں اور گدھوں سے پردہ کا حکم نہیں ہے۔‘‘ایک روز حسب عادت ننگی پھر رہی تھی۔ اس حالت میں اس نے کہا کہ ’’کپڑا لاؤ، مرد آ گیا۔‘‘تھوڑی دیر میں مولانا فرید الدین صاحب تشریف لائے۔
پس حقیقت میں تو آدمی فرمانبردار ہی ہے۔ باقی تو سب جانور ہیں۔ لیکن ان حکایات سے کوئی کشف کو بڑا کمال نہ سمجھے، کیونکہ جانور بھی صاحب کشف ہوتے ہیں۔ دلیل اس کی یہ ہے کہ عذاب قبر کے بارے میں حدیث میں آیا ہے یسمعہ کل دابتہ غیر الثقلین۔ پس جو لوگ طالب کشف ہیں وہ نادان ہیں یہ تو کوئی کمال مقصد نہیں، کمال تو رضا و قرب ہے۔



















































