آج کی سائنسی تحقیق یہ بتاتی ہے کہ انسان جو چیزیں کھاتا ہے تو منہ کے اندر پلازما پیدا ہو جاتا ہے۔ اب یہ پلازما صرف کلی کرنے سے صاف نہیں ہوتا۔ مسواک کرنا یا برش کرنا ضروری ہے۔ سونے کی حالت میں دانت زیادہ خراب ہوتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ جب انسان سو جاتا ہے تو اس کا منہ بالکل بند ہوتا ہے اور بند منہ کے اندر جراثیم کے لیے تباہی پھیلانا بہت آسان ہوتا ہے۔
دن کے وقت کبھی بندہ بول رہا ہے تو زبان چل رہی ہے کبھی کھا رہا ہے، کبھی پی رہا ہے، دن کے وقت حرکت کرنے کی وجہ سے پلازمہ کو کام کرنے کا موقع نہیں ملتا اور رات کے وقت جب منہ بند ہوتا ہے تو کام کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔ اس لیے رات کے وقت دانت زیادہ خراب ہوتے ہیں۔ صبح ٹوتھ پیسٹ کریں یا نہ کریں مرضی ہے، لیکن رات کو سوتے ہوئے ضرور مسواک یا ٹوتھ پیسٹ کرنا چاہیے۔
ساٹھ برس تک نہ لیٹ کر سوئے
حسان بن سفیان رحمتہ اللہ علیہ کے بارے میں روایت ہے کہ وہ ساٹھ برس تک نہ لیٹ کر سوئے نہ چربی (چکنائی) کھائی اور نہ ٹھنڈا پانی پیا۔ آپ کے انتقال کے بعد کسی شخص نے آپ کو خواب میں دیکھا اور آپ سے پوچھا کہ ’’اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ کیا؟‘‘فرمایا ’’اچھا سلوک کیا۔ لیکن ایک سوئی کے باعث جسے میں نے عاریتہً لیا تھا اور اسے واپس نہیں کیا تھا، جنت سے روک دیا گیا ہوں۔‘‘
دنیا میں صرف نام لینے کی اجازت دی
حضرت حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ سے کسی نے پوچھا کہ ’’حضرت میں اللہ کا نام لیتا ہوں، مگر کچھ نفع نہیں۔‘‘حضرت نے فرمایا کہ ’’یہ تھوڑا نفع ہے کہ نام لیتے ہو۔
یہ تمہارا نام لینا بھی نفع ہے اور کیا چاہتے ہو۔‘‘گفت آں اللہ تو لبیک ماست۔۔ویں نیاز و سوز دردت پیک ماست۔پس دنیا میں تو یہ رحمت کہ نام لینے کی اجازت دی اور آخرت میں اس پر قبول و رضا مرحمت فرمائیں گے۔ امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کے شاگرد حضرت حسن بن زیاد نے ایک مرتبہ کسی کو غلط مسئلہ بتا دیا۔ سائل کے جانے کے بعد انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوا تو ایک شخص کو اجرت پر لیا اور اس سے کہا کہ شہر میں آواز لگاتا پھرے کہ حسن بن زیاد نے ایک مسئلہ غلط بتا دیا ہے۔ جس نے ان سے کوئی مسئلہ پوچھا ہو وہ ان کے پاس جائے اور تصحیح کر لے۔ یہاں تک کہ وہ شخص مل گیا اور انہوں نے صحیح مسئلہ بتا دیا۔



















































