منقول ہے کہ ایک مکان میں ایک کرایہ دار رہتا تھا۔ اس نے کسی کو خط لکھا۔ روشنائی تازہ تھی، اس نے چاہا کہ اس مکان سے تھوڑی سی مٹی لے کر سیاہی کو خشک کر دے۔ فوراً اس کے دل میں خطرہ گزرا کہ مکان اس کی ملک نہیں ہے، بلکہ کرایہ پر ہے۔ چند لمحے بعد اس نے دل کو یہ کہہ کر بہلا لیا کہ تھوڑی سی مٹی لینے میں کیا ڈر ہے؟ چنانچہ مٹی لے کر خط خشک کر لیا۔
فوراً غیب سے آواز آئی ’’اے مٹی کو حقیر و خفیف سمجھنے والے! تجھے بہت جلد پتہ چل جائے گا جب کل تو طول حساب میں گرفتار ہوگا۔‘‘
چار باتوں کی پابندی
ہمارے اکابرین اصلاح کے ساتھ ساتھ ادب کا بھی خوب اہتمام فرمایا کرتے تھے۔ حضرت تھانوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ:’’میں نے ہمیشہ چار باتوں کی پابندی کی۔ ایک تو یہ کہ میری لاٹھی کا جو سرا زمین پر لگتا تھا اس کو کبھی کعبے کی طرف کرکے نہیں رکھا۔ میں نے بیت اللہ شریف کا اتنا احترام کیا، دوسری بات یہ کہ میں اپنے رزق کا اتنا احترام کرتاتھا کہ چارپائی پر بیٹھتا تو خود ہمیشہ پائنتی کی طرف بیٹھتا اور کھانے کو سرہانے کی طرف رکھتا، اس طرح بیٹھ کر کھانا کھاتا۔ تیسری بات یہ جس ہاتھ سے طہارت کرتا تھا، میں اس ہاتھ میں پیسے نہیں پکڑتا تھا، کیونکہ یہ اللہ کا دیا ہوا رزق ہے۔ چوتھی بات یہ کہ جہاں میری کتابیں پڑی ہوتی ہیں، میں اپنے استعمال شدہ کپڑوں کو ان دینی کتابوں کے اوپر کبھی نہیں لٹکایا کرتا تھا۔‘‘
وقت کو اچھے کام میں لگانے کی ضرورت
آج ہمارا بہت سا وقت محض اخبار پڑھنے یا بے کار کی گفتگو کرنے میں گزر جاتا ہے۔
حالانکہ اخبار پڑھنا گناہ نہیں، صرف خبریں دیکھنا یا تجارتی کوئی مقصد ہو تو اخبار پڑھے۔بعض لوگوں کو اخبار دیکھنا بھی ایک بیماری کی طرح لازمی بن کر رہ گیا ہے اور بے کار گفتگو تو عام ہے۔ جہاں دو چار آدمی جمع ہوں گے، ادھر ادھر کی بے معنی گفتگو شروع ہو جائے گی۔ جس میں یا تو کسی کی برائی بھلائی ہو گی یا محض وقت کا گزارنا ہوگا۔ایسے خالی وقت میں جب کوئی کام نہ ہو اپنے اوپر غور کرنے کی ضرورت ہے اور جس نیاپنے اوپر غور کیا اور سمجھ لیا کہ کل مالک یومجزاء کے سامنے کھڑا ہونا ہے، اس کے لیے میں نے کیا تیاری کی؟تو نہ صرف بدگوئی اور برے اعمال سے بچے گا بلکہ آخرت کی بھی کچھ نہ کچھ تیاری کر لے گا۔



















































