ایک بزرگ کو کسی نے خواب میں دیکھا اور پوچھا کہ ’’حق تعالیٰ نے آپ کے ساتھ کیا سلوک کیا؟‘‘بزرگ نے جواب دیا کہ جو کچھ تو میں نے خالص راہ خدا میں کیا تھا اسے نیکیوں کے پلڑے میں پایا (اور جو عمل اخلاص سے خالی تھا، اسے یا تو گناہوں کے پلڑے میں پایا یا کہیں بھی نہ دیکھا۔) چنانچہ انار کا ایک دانہ جو ایک مرتبہ میں نے راہ میں پڑا دیکھ کر اٹھا لیا تھا،
نیکیوں کے پلڑے میں پڑا ہوا دیکھا اور ایک بلی جو میرے گھر میں مر گئی تھی وہ بھی اسی پلڑے میں دھری تھی اور ایک ریشمی دھاگہ جو میں نے اپنی ٹوپی میں ٹانک لیا تھا، گناہوں کے پلڑے میں رکھا ہوا پایا۔ لیکن مجھے یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ میرا گدھا جس کی قیمت سو دینار تھی اور وہ بھی (بلی کی طرح) میرے گھر ہی میں مرا تھا مجھے نیکیوں کے پلڑے میں دکھائی نہ دیا۔ آخر میں نے خدا سے پوچھ لیا کہ ’’اے سبحان اللہ! بلی تو نیکیوں کے پلڑے میں ہو اور گدھا کہیں بھی نہ ہو؟‘‘ارشاد ہوا ’’جہاں تو نے بھیجا تھا وہیں پہنچ گیا۔ یاد ہے کہ تو نے اس کے مرنے پر کہا تھا ’’الی لعنت اللہ‘‘ اور تو اس کی جگہ ’’فی سبیل اللہ‘‘ کہہ دیتا تو آج اسے بھی نیکیوں کے پلڑے میں دیکھتا۔‘‘اسی طرح ایک مرتبہ میں نے خدا کی راہ میں صدقہ دیا تھا۔ لیکن معلوم ہوا کہ وہ ضائع ہی ہو گیا، کیونکہ نیکیوں کے پلڑے میں وہ بھی موجود نہ تھا۔ تب مجھے یاد آیا کہ ہاں ٹھیک ہے، کیونکہ جب میں صدقہ دے رہا تھا تو لوگ دیکھ رہے تھے اور ان کا وہ دیکھنا مجھے بڑا اچھا لگ رہا تھا۔یہ باتیں سفیان ثوری رحمتہ اللہ علیہ نے سنیں تو فرمایا کہ ’’یہ تو دولتِ گراں مایہ ہے جو اس کے ہاتھ آئی۔‘‘ یعنی اسے نقصان یا فائدہ نہ پہنچا۔
احسان کا بدلہ احسان
ایک بزرگ کا قصہ ہے کہ ایک آدمی انہیں بہت بدنام کرتا اور ان کی غیبت کرتا رہتاتو انہوں نے اسے کچھ ہدایا بھیجنا شروع کر دئیے، بالآخر اس شخص کو یہ خیال آیا کہ میں انہیں ہر وقت بدنام کرتا رہتا ہوں اور یہ مجھے ہدایا بھیجتے رہتے ہیں تو اسے شرم آئی اور اس نے مخالفت چھوڑدی۔
انہوں نے ہدایا بھیجنے چھوڑ دئیے تو وہ شخص بزرگ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگا کہ ’’یہ بات میری سمجھ میں نہیں آتی کہ جب میں آپ کی مخالفت کرتا تھا تو آپ ہدایا بھیجتے تھے اور جب سے میں نے آپ کی مخالفت چھوڑ دی ہے آپ نے ہدایات بھیجنے بند کر دئیے۔‘‘فرمایا کہ ’’جب تک آپ کے ہدایا آتے رہے میں بھی بھیجتا رہا، آپ نے ہدایا بھیجنے چھوڑ دئیے تو میں نے بھی یہ سلسلہ بند کر دیا، آپ پھر شروع کر دیں،
میں بھی شروع کر دوں گا۔‘‘جن کے دلوں میں صلاحیت ہوتی ہے وہ لوگوں کی مخالفت کو اپنے لیے مضر نہیں سمجھتے، بلکہ وہ تو اسے بہت بڑی نعمت سمجھتے ہیں۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے تربیت ہوتی ہے۔ بات اس پرچلی:الانسان عبدالانسان’’انسان احسان کا بندہ ہے۔‘‘کسی پر کوئی شخص احسان کرتا ہے تو اسے محسن کے ساتھ ایسی محبت ہو جاتی ہے کہ بس اس کا غلام ہی بن جاتا ہے۔



















































