برلن یونیورسٹی کے ڈاکٹر مور نے شیو، بلیڈ اور صابن پر برسوں تجربات کیے ہیں، اس کے بعد انہوں نے جو نتائج حاصل کئے وہ یہ ہیں:شیو سے جتنا نقصان انسانی جلد کو پہنچتا ہے، شاید ہی جسم کے کسی اور حصے کو پہنچتا ہوں۔ دراصل شیو کا بلیڈ یا استرا جلد کو مسلسل کھرچتا رہتا ہے اور ہر شیو کرانے والے کی خواہش یہ ہوتی ہے کہ چہرے پر ذرا بھی بال محسوس نہ ہوں، تاکہ چہرے کے حسن اور نکھار میں کمی نہ ہو۔
اس کے لیے چہرے کی جلد کو استرے سے بار بار چھیلا جاتا ہے۔ اس سے چہرے کی جلد خراب ہوتی ہے اور طرح طرح کے امراض قبول کرنے کے قابل ہو جاتی ہے۔گندا استرا یا بلیڈ چہرے پر پھیرنے میں زیادہ طاقت خرچ کی جاتی ہے، اس طرح جلد کو مزید نقصان پہنچتا ہے۔ جلد پر زخم بن جاتے ہیں۔ یہ زخم اگرچہ آنکھوں سے نظر نہیں آتے، لیکن جلن کا احساس ہوتا رہتاہے۔ جب جلد پر خراش آ جاتی ہے تو جراثیم کو اندر داخل ہونے کا موقع مل جاتا ہے۔ اس طرح داڑھی مونڈنے والا طرح طرح کے امراض میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ چہرے پر پہلے معمول کی پھنسیاں نکلتی ہیں، پھر اس کے علاوہ ایک جلدی سوزش پیدا ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ بعض چھوت کے امراض پہلے چہرے کو اور پھر پورے جسم کو لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔ ان امراض کے نام یہ ہیں۔ مہاسے ، جلدی خشکی، کیل، چھائیاں ، ناک پر دانے، کیل، عام پھوڑے پھنسیاں، ایگزیما، پتی اچھلنا اور الرجی۔شیو کا مسلسل عمل غدہ نخامیہ (ایک غدود) پر برا اثر ڈالتا ہے۔ اس سے جسم کمزور ہوتا ہے، بینائی پر برا اثر پڑتاہے۔اور یہ آپ جانتے ہی ہیں، داڑھی رکھنا شرعاط واجب ہے، داڑھی نہ رکھنے والا شخص سخت گناہ گار ہے اور یہ ایسا گناہ ہے جو کسی وقت جان نہیں چھوڑتا۔ لہٰذا داڑھی کی سنت کو ترک کرنا ہر لحاظ سے نقصان دہ ہے۔ اس دنیا کے لحاظ سے بھی اور آخرت کے لحاظ سے بھی۔ جو لوگ داڑھی نہیں رکھتے، شیو کرتے ہیں،
وہ ان تمام بیماریوں کو دعوت دینے کے ساتھ ساتھ نبیؐ کی سنت کے بھی تارک ہیں اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے کھلم کھلا نافرمان بھی۔
قول و فعل میں تضاد والی باتیں
عیون الاخبار میں ہے۔ حضرت شفیق بلخی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔ لوگ تین باتیں محض زبان سے کرتے ہیں،
مگر عمل اس کے خلاف کرتے ہیں۔1 ۔ ایک یہ کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں، لیکن کام غلاموں جیسے نہیں کرتے، بلکہ آزادوں کی طرح اپنی مرضی پر چلتے ہیں۔2۔ یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی ہمیں رزق دیتا ہے، لیکن ان کے دل دنیا اور متاع دنیا جمع کیے بغیر مطمئن نہیں ہوتے، اور یہ ان کے اقرار کے سراسر خلاف ہے۔3۔ یہ کہتے ہیں کہ آخر ہمیں مر جانا ہے، مگر کام ایسے کرتے ہیں جیسے انہیں کبھی مرنا ہی نہیں۔



















































