عمر بن ہبیرہ نے ایاس بن معاویہ کو بلایا اور پوچھا: آپ قرآن پرھتے ہیں؟ ایاس بن معاویہ: ہاں- عمر بن ہبیرہ: فرائص کا علم ہے؟ ایاس بن معاویہ: ہاں- عمر بن ہبیرہ: عجم کی تاریخ سے دلچسپی ہے؟ ایاس بن معاویہ: پڑھ رکھی ہے- عمر بن ہبیرہ: عرب کی تاریخ پڑھی ہے؟ ایاس بن معاویہ: ہاں، پڑھ رکھی ہے-
عمر بن ہبیرہ: میری تمنا ہے کا آپ کو اپنے ساتھ بحیثیت معاون مقرر کروں؟(عمیر بن ہبیرہ اس وقب امیر تھا) ایاس بن معاویہ: میرے اندر تین خصلتیں ہیں اور ان تینوں کے ہوتے ہوئے میں منصب قضا کے لیے مناسب نہیں ہوسکتا-عمر بن ہبیرہ: وہ تین خصلتیں کونسی ہیں؟ ایاس بن معاویہ: پہلی خصلت یہ ہے کہ میں بدصورت ہوں جو آپ دیکھ رہے ہیں- دوسری یہ ہے کہ میرے اندر حدّت (تیز مزاجی) ہے اور تیسری یہ ہے کہ میں اس ذمہ داری کے نبھانے سے عاجز ہوں- عمر بن ہبیرہ: آپ بد صورت ہیں تو مجھے کوئی لوگوں کےسامنے بازار حسن نہیں لگانا ہے- آپ اپنی عاجزی کی بات کہہ رہے ہیں مگر میں سمجھتا ہوں کہ آپ تکلف سے کام لے رہے ہیں ورنہ آپ منصب قضا کے لیے بالکل موزوں ہیں اور جہاں تک آپ کی حدّت اور گرم مزاجی کی بات ہے تو کوڑا آپ کو درست کردے گا- جائیے میں نے آپ کو قاضی مقرر کردیا- پھر امیر عمر بن ہبیرہ نے قاضی ایاس بن معاویہ کو 100 درھم عطا کیے۔ یہ ان کی زندگی کی پہلی آمدنی تھی-



















































