شفاف اور مواہب لدنیہ میں لکھا ہے کہ حضورؐ نے ایک دن ایک یہودی کو اسلام کی طرف بلایا یہودی نے کہا کہ ’’یا حضرت! جب تک میری مری ہوئی لڑکی کو آپ زندہ نہ کریں اور وہ مردہ دختر زندہ ہو کر آپؐ کی رسالت کی گواہی نہ دے، میں ہرگز مسلمان نہ ہوں گا۔‘‘یہ سن کر حضور اکرمؐ نے فرمایا ’’اے یہودی! چل اپنی دختر کی قبر پر مجھے لے چل۔‘‘ حضورؐ یہودی کے ساتھ قبرستان تشریف لے گئے۔
وہاں جا کر یہودی کی لڑکی کی قبر پر کھڑے ہو کر یہودی کی لڑکی کا نام لے کر پکارا۔ حضورؐ کی آواز سن کر قبر شق ہوئی اور قبر کے اندر سے لڑکی زندہ ہو کر پکاری ’’لبیک و سعدیک یا رسول اللہؐ، کیا ارشاد ہے؟‘‘حضور اکرمؐ نے فرمایا ’’اگر تیرا دل چاہے تو، تو اپنے ماں باپ کے پاس چلی آ، دنیا میں زندہ ہو کر رہ۔‘‘عرض کیا کہ ’’حضرت، میں نے اپنے اللہ کو اپنے والدین سے زیادہ مہربان پایا ہے اور آخرت کو دنیا سے افضل دیکھا ہے۔ اس لیے آپ مجھے میری قبر میں رہنے دیں۔‘‘حضور اکرمؐ نے پھر اس کے مر جانے کی دعا کی۔ وہ دختر دوبارہ مر کر قبر میں گئی۔ یہودی یہ واقعہ دیکھ کر حیران ہوا اور کلمہ لاالہ الااللہ محمد رسول اللہ کا اقرار کیا اور مردہ دختر کے والدین مسلمان ہو کر ہمیشہ کی زندگی کے مستحق ہوئے۔
بچہ تو بچہ ہی ہوتا ہے اگرچہ۔۔۔
علمائے کرام میں بعض نے بہت ہی کم عمری میں علم کے جام پہ جام پئے۔ حضرت امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ کے حالات زندگی میں لکھا ہے کہ امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ تیرہ سال کی عمر میں امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ بن چکے تھے۔ اس عمر میں انہوں نے درس قرآن دینا شروع کردیا تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب سفید بالوں والے بڑے بڑے مشائخ ان کے حلقہ درس میں بیٹھا کرتے تھے۔
ایک دفعہ درس قرآن دے رہے تھے، اسی دوران دو چڑیاں لڑتی ہوئی ان کے قریب آ کر گریں۔ یہ کم عمر تو تھے ہی۔۔۔ انہوں نے اپنا عمامہ اتارا اور ان چڑیوں کے اوپر رکھ دیا۔ اب درس قرآن کے درمیان جو یہ کام کیا تو جو مشائخ بیٹھے تھے انہوں نے اس چیز کو Mind (محسوس) کیا کہ یہ ادب کے خلاف ہے۔ چنانچہ انہوں نے عمامہ اپنے سر پر رکھا اور یہ فرمایا الصبی صبی ولوکان ابن نبی کہ بچہ تو بچہ ہی ہوتا ہے چاہے کسی نبی کا ہی کیوں نہ ہو۔ پھر ان مشائخ کی تشفی ہو گئی کہ ہاں کم عمری کی وجہ سے ایسی باتیں ہو سکتی ہیں۔



















































