اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

خلیفہ وقت کی حالتِ عجیب

datetime 5  مئی‬‮  2017 |

حضرت عمر بن عبدالعزیز کی زوجہ محترمہ کو ان کے والد خلیفہ عبدالملک بن مروان نے ایک بیش قیمت گوہر دیا تھا۔ عمر بن عبدالعزیز جب امیر المومنین بنے تو انہوں نے فرمایا۔ ’’اپنا تمام زیور بیت المال میں داخل کر دو ورنہ میں تم سے الگ ہو جاؤں گا۔ کیوں کہ مجھے گورا نہیں کہ تم اور تمہارے زیور (جو رعایا کے روپے سے بنے ہیں) اور میں ایک گھر میں رہ سکیں۔‘‘ وہ بھی نیک بخت بیوی تھی۔

اس نے سارا زیور بیت المال میں داخل کر دیا۔عمر بن عبدالعزیز کے بعد جب یزید بن عبدالملک بادشاہ ہوا تو اس نے اپنی بہن یعنی آپ کی زوجہ محترمہ سے کہا۔ ’’آپ چاہیں تو اپنا زیور واپس لے سکتی ہیں۔‘‘انہوں نے فرمایا۔ ’’جو چیز اپنی خوشی سے میں ان کی حیات میں داخل خزانہ کر چکی ہوں، اب ان کے بعد واپس لے کر کیا کروں گی۔‘‘عمر بن عبدالعزیز کے صاحبزادے کہتے ہیں کہ مجھ سے ابو جعفر منصور (خلیفہ دوم عباسیہ) نے پوچھا ’’تمہارے والد کی کیا آمدنی تھی؟‘‘کہا ’’کل چار سو دینار۔ یہ آمدنی رفتہ رفتہ کم ہو رہی تھی۔ اگر وہ اور زندہ رہتے تو اور بھی کم ہو جاتی۔‘‘عمر بن مہاجر (جن کو آپ نے کوتوال شہر مقرر کیا تھا) کہتے ہیں، آپ کی تنخواہ دو درہم روزانہ مقرر تھی۔ آپ کا چراغ دان تین لکڑیوں کو کھڑا کرکے اس پر مٹی رکھ کر بنایا جاتا تھا۔ جب اراکین سلطنت آپ کے پاس رات کو جمع ہوتے اور معاملات سلطنت میں گفتگو کرتے تو آپ بیت المال کا چراغ جلائے رکھتے جب دربار برخاست ہو جاتا تو اس کو گل کرکے اپنا چراغ جلا لیتے۔جب آپ خلیفہ ہوئے تو آپ نے گھر کے اخراجات کم کر دئیے، گھر سے شکایت ہوئی۔ آپ نے فرمایا ’’میری تنخواہ میں اس قدر وسعت نہیں ہے کہ تمہارا سابق خرچ جاری رکھوں۔ باقی رہا بیت المال اس میں تمہارا بھی اتنا ہی حق ہے جتنا اور مسلمانوں کا۔‘‘

ایک دن بنو مروان یعنی شاہی خاندان کے لوگ آپ کے رشتہ برادری والے آپ کے مکان پرآئے، آپ کے بیٹے سے ملے اور کہا ’’خلیفہ سے جا کے کہو کہ آپ سے پہلے جس قدر خلفائے ہوئے ہیں، سب ہمارے لیے عطایات اور جاگیریں مخصوص کرتے رہے ہیں۔ آپ نے ہم پر تمام چیزیں حرام کر دیں، کیا بوجہ قربت بھی ہمیں کچھ نہیں پہنچتا۔‘‘آپ نے جواب دیا ’’جاگیریں اس لیے بند ہیں اور عطایا اس لیے موقوف ہیں کہ بیت المال میں غریبوں اور امیروں سب کا روپیہ جمع ہے۔

تمہیں جاگیریں دے دوں اور روپیہ تمہارے عیش و عشرت کے لیے وظیفوں کی صورت میں بانٹ دوں تو یتیموں، بیواؤں، مسکینوں اور حق داروں کو کیا دو اور خدا کی نافرمانی کرکے قیامت کے عذاب سے کس طرح نجات حاصل کروں۔ باقی رہا حق قرابت تو میرے نزدیک اس معاملے میں تم اور ایک ادنیٰ مسلمان (جس کو تم ادنیٰ سمجھتے ہو) برابر ہو۔‘‘جریر بن خطفی نے ایک مرتبہ آپ کی شان میں قصیدہ پڑھا۔ جس میں حسن طلب کی جھلک آ رہی تھی۔

آپ نے اشعار سننے کے بعد فرمایا ’’مشکل یہ ہے کہ قرآن شریف کی رو سے تمہارا کوئی حق بیت المال پر ثابت نہیں ہوتا۔‘‘جریر نے عرض کیا ’’امیر المومنین میں بحیثیت مسافر حقدار ہوں۔‘‘یہ سن کر آپ نے اپنی جیب خاص سے اس کو پچاس دینار عطا فرمائے۔بنی مروان چونکہ آپ سے ناراض رہتے تھے، اس لیے آپ نے وہ تمام روپیہ جو سالانہ وظیفوں اور مختلف بے محل عطیات میں انہیں ملتا تھا، موقوف کردیا تھا۔ آپ ان سے کہتے تھے کہ بیت المال پر میرا کوئی حق، قبضہ اور دخل نہیں ہے۔

میں اس کا نگراں محافظ اور امین ہوں۔ یہ غریبوں اور یتیموں کا مال ہے۔ یہ عطایا کی صورت میں تقسیم نہیں ہوتا۔ جو مال غصب کیا ہوا تھا وہ بھی آپ نے واپس لے کر بیت المال میں داخل کرایا۔آخر ایک نیک نہاد خلیفہ کے (جس کے عہد خلافت کو خلافت راشدہ میں تسلیم کیا جاتا ہے اور جن کے انتقال پر حضرت خواجہ حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا تھا۔ ’’آج دنیا کا سب سے بہتر آدمی اٹھ گیا‘‘ قتل کی سازش کی گئی اور ایک غلام کو زہر خوردنی پر آمادہ کیا گیا۔

مدت خلافت دو سال پانچ ماہ سے زیادہ نہ تھی۔انتقال سے پیشتر آپ نے اس غلام کو اپنے پاس بلایا جس نے آپ کو زہر دیا۔ فرمایا ’’تو نے مجھے زہر دیدیا، آخر کس طمع نے تجھے اس فعل پر برانگیختہ کیا؟‘‘اس نے کہا ’’آپ کے بھائی بندوں نے ایک ہزار دینار دیا ہے اور آزاد کرنے کا وعدہ بھی کیا ہے۔‘‘آپ نے فرمایا ’’ہزار دینار کہاں ہیں؟‘‘کہا ’’گھر میں ہیں؟‘‘ارشاد ہوا ’’جلد لاؤ‘‘وہ غلام جب دینار لے آیا تو آپ نے اس تمام کو بیت المال میں داخل کر دیا کہ یہ سب غریبوں کا چھینا ہوا روپیہ ہے، یہ غریبوں ہی کے خزانے میں جانا چاہیے۔ پھر غلام سے کہا ’’اب یہاں سے بھاگ جاؤ، اس طرح کہ کسی کو نظر نہ آ سکو۔‘‘

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…