دونوں میں بڑا سخت مقابلہ جاری تھا۔ ایک باؤنسر پھینکتا تو دوسرا اس پر شاندار ہک لگا کر گیند کو باؤنڈری کی راہ دکھاتا۔ پھر وہی گیند کو اس طرح سوئمنگ کرتا کہ بیٹسمین گڑبڑا کر رہ جاتا۔ کرکٹ کے اس میچ کے دوران فٹ بال بھی شروع ہو جاتی، گیند ایک کھلاڑی سے ہوتی ہوئی چند سیکنڈ میں میدان کے دوسرے کونے تک پہنچ جاتی۔ کبھی کبھی وہ مقابلہ ہاکی میچ کا منظر پیش کرتا۔
وہ مشق سینٹر فارورڈ کی طرح تمام کھلاڑیوں کو ڈاج دے کر مخالف ٹیم کی ڈی میں جا کر ہی دم لیتا۔وہ میچ کمرۂ امتحان میں جاری تھا۔ ایک جانب چند نگراں امتحان تھے اور دوسری جانب طالب علم۔ ایک طالب علم کو تو کیپٹن کی حیثیت حاصل تھی وہ مسلسل کارتوس استعمال کر رہا تھا، لیکن نگران امتحان کو مکمل یقین نہیں تھا کہ وہ واقعی نقل کر رہا ہے۔ چھ فٹ تو اس کا قد ہو گا اور جسم بھی انتہائی کسرتی۔ سچ پوچھئے تو نگراں امتحان کی اس پر ہاتھ ڈالنے کی ہمت بھی نہیں ہو رہی تھی۔ کھلاڑیوں میں آنکھوں ہی آنکھوں میں پیغامات کے تبادلے ہو رہے تھے۔ کبھی کبھی نگراں امتحان کو سخت غصہ آتا تو وہ ’’کیپٹن صاحب‘‘ کے قریب خالی نشست پر جا بیٹھتے، اس وقت کیپٹن صاحب کی حالت دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی۔ ان کا قلم رک جاتا تھا۔جیسے ہی نگران امتحان اپنے ساتھیوں سے گپیں ہانکنے لگتے، وہ پھر چھپائی میں مصروف ہو جاتا۔ کیپٹن صاحب نے کئی سوالات حل کرلیے، وہ چونکہ کیپٹن تھے، اس لیے اپنے ساتھیوں کی مدد بھی ان کے فرائض میں شامل تھی، جب کبھی نگران امتحان کی توجہ، ان پر سے کم ہوتی، وہ اپنا کام دکھا دیتے۔عجیب و غریب میچ تھا۔ ٹیمیں دو تھیں، لیکن ایک ٹیم مقابلے کے ساتھ ساتھ امپائرنگ کے فرائض بھی انجام دے رہی تھی۔ لوگ کہتے ہیں کہ بیٹنگ کرنے والی ٹیم مزے میں ہوتی ہے۔ لیکن یہاں تو فیلڈنگ کرنے والی ٹیم زیادہ فائدے میں تھی۔
چائے اور سگریٹ کے دور چل رہے تھے۔ کلاس میں موجود کھلاڑیوں کے درمیان ٹیم اسپرٹ دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی۔ وہ کھلاڑی، جو پڑھنے کے دوران باہم گتھم گتھا ہو جاتے تھے، دوران امتحان باہم ایسے شیر و شکر دکھائی دے رہے تھے کہ بس کچھ نہ پوچھو۔ بھائی چارے اور اخوت کے جذبات چھلک رہے تھے۔ ایک کی جانب سے ہلکا سا اشارہ ہوتا تو دوسرا خفیہ جیبوں میں موجود سارا خزانہ نچھاور کرنے کے لیے تیار تھا۔
نگران امتحان اور طلبہ کے درمیان سورج کی روشنی میں آنکھ مچولی جاری تھی۔ کیپٹن صاحب کو نہ جانے کیا سوجھی، انہوں نے نگراں امتحان کو چھوٹی انگلی دکھائی۔ نگراں امتحان نے اثبات میں سر ہلایا۔ اب کیپٹن صاحب میدان سے باہر چلے گئے، نگران امتحان مسلسل کلاس میں چہل قدمی کرتے رہے۔ ادھر تانکا، ادھر جھانکا، تانک جھانک چلتی رہی۔ اتنی دیر میں کیپٹن صاحب واپس آ گئے۔
ابھی کیپٹن کو دوبارہ قلم سنبھالے چند ہی منٹ گزرے ہوں گے کہ نگران امتحان ان پر عقاب کی طرح جھپٹے۔ نگران امتحان نے کیپٹن صاحب سے کہا کہ ’’سیدھے موزے سے غالب نکالو۔‘‘ کیپٹن صاحب کے پاس کوئی چارہ نہ تھا۔ انہوں نے سیدھا موزہ اتارا تو اس میں اس سے غالب برآمد ہوئے۔ نگران امتحان نے ایک اور حملہ کیا ’’قمیص کی بائیں جیب سے میر تقی میر کی غزلوں کی تشریح نکالو۔‘‘
ٹھیک اسی جگہ سے تشریح برآمد ہو گئی۔ نگراں امتحان کی حوصلہ افزائی ہوئی تو انہوں نے بڑا حملہ کر دیا ’’پینٹ کی چور جیب سے اقتباسات، خلاصے اور مرکزی خیال برآمد کرو۔‘‘ کیپٹن صاحب نے وہ تمام کارتوس ان کے حوالے کر دئیے۔ نگران امتحان جو کہہ رہے تھے، کاغذات ایسی ترتیب سے برآمد ہو رہے تھے۔ پوری کلاس حیرانی سے یہ منظر دیکھ رہی تھی۔ کیپٹن صاحب سے رہا نہ گیا۔
انہوں نے نگران امتحان سے پوچھا۔ ’’سر! صرف یہ بتا دیجئے کہ آپ کو ان کارتوسوں کا پتہ کیسے چلا؟‘‘نگران امتحان مسکرائے، انہوں نے کہا کہ ’’جب تم کمرے سے باہر گئے تھے تو میں نے تمہاری جیومیٹری باکس سے تمام کارتوسوں کی یہ فہرست برآمد کر لی تھی۔ ’’پوری کلاس کے چہرے فق تھے۔ کیپٹن صاحب گڑگڑا رہے تھے۔ منت سماجت کر رہے تھے۔ لیکن ان سے پرچہ واپس لے لیاگیا تھا اور بقیہ کارروائی جاری تھی۔ شاید کیپٹن صاحب کو تین سال تک امتحان میں بیٹھنے کے لیے نااہل قرار دے دیا جائے۔عجیب میچ تھا، میچ کا اختتام بھی انوکھا تھا۔



















































