ایک شخص ایک غلام کو کسی کے ہاتھ بیچنے لگا اور بیچتے وقت خریدار سے کہہ دیا کہ اس غلام میں کچھ عیب نہیں ہے، مگر یہ کہ چغل خور ہے۔ خریدار نے کہا کہ کچھ مضائقہ نہیں۔ جب خریدار نے اس غلام کو خرید لیا تو غلام نے فساد پھیلا دیا اس طرح کہ اپنے مولیٰ کی بیوی سے جا کے کہا کہ تیرا خاوند تجھ سے محبت نہیں رکھتا، بلکہ دوسری عورت لانا چاہتا ہے۔
اس کی دوا یہ ہے کہ جب تیرا خاوند سوئے تو استرا لے کے اس کی گدی کے بال مونڈنا، اگر ایسا کرے گی تو وہ تجھ سے محبت کرے گا اور اپنے مولیٰ سے جا کے کہا کہ تیری بیوی تجھے ذبح کرنا چاہتی ہے۔ایک روز اس کا مولیٰ یونہی آنکھ بند کرکے لیٹ گیا۔ وہ عورت غلام کے کہنے کے مطابق استرا لائی، خاوند نے آنکھ کھول کر دیکھا تو سمجھا کہ واقعی یہ عورت مجھ کو ذبح کرنے آ رہی ہے۔ فی الفور اسے قتل کر ڈالا۔ جب یہ خبری اس عورت کے وارثوں کے پاس پہنچی تو انہوں نے اس آدمی کو مار ڈالا۔ اس غلام کی چغل خوری کے سبب یہ فساد عظیم واقع ہو گیا۔
ہر انسان کی قسمت میں جو کچھ ہوتا ہے وہ اس کو مل کر رہتا ہے
ایک دن حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسجد کے دروازے پر اپنے خچر سے اترے۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنا خچر ایک شخص کے حوالے کیا اور مسجد میں تشریف لے گئے۔ اس شخص نے خچر کی لگام کھینچ کر نکالی اور فرار ہو گیا۔حضرت امیر المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب مسجد سے باہر تشریف لائے تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ میں دو درہم تھے۔ یہ دو درہم آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس خچر کی نگہبانی کرنے والے کو دینا چاہتے تھے۔
لیکن آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دیکھا کہ سواری کا جانور لگام سے خالی ہے۔ بہرحال آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ خچر پر سوار ہو کر گھر پہنچے، اپنے غلام کو وہ دو درہم دئیے تاکہ وہ لگام خرید لائے۔غلام بازار گیا۔ اس نے وہی لگام ایک شخص کے ہاتھ میں دیکھی، پوچھنے پر معلوم ہوا کہ ایک شخص یہ لگام دو درہم میں بیچ گیا ہے۔غلام نے یہ بات جب حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بتائی تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:’’بندہ خود صبر نہ کرنے اور عجلت سے کام لینے کی وجہ سے رزق حلال کو اپنے اوپر حرام کر لیتا ہے۔
حالانکہ جو کچھ بھی اس کی قسمت میں لکھا ہوتا ہے اس سے زیادہ اسے نہیں ملتا۔‘‘اس کے علاوہ اور نہ جانے وہ کیا کیا کہتی رہی۔ بس مختصر یہ کہ بیوی نے اس کے دل میں اتنا وسوسہ پیدا کر دیا کہ وہ بے چارہ خالی ہاتھ مسجد آ گیا۔ اس کے دوستوں نے پوچھا۔ ’’کیا ہوا؟ تم نے دیکھا کہ ستر شیطان تمہارے ہاتھوں سے چمٹ گئے اور تمہیں صدقہ نہیں دینے دیا۔‘‘اس شخص نے جواب دیا۔ ’’میں نے شیطانوں کو تو نہیں دیکھا، البتہ شیطانوں کی ماں کو دیکھا ہے جو کہ ایسا نہیں کرنے دیتی ہے!‘‘



















































