اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) قیام پاکستان سے قبل لاپتہ ہونے والی خاتون اپنے آبائی علاقے پہنچ گئی، برسوں بعد بچھڑوں سے ملنے کے موقع پر جذباتی مناظر نے دیکھنے والوں کو بھی رلا دیا۔ تفصیلات کے مطابق قیام پاکستان سے قبل 6سال کی عمر میں دیربالا کی رہائشی خاتون کئی دھائیوں بعد اپنے خاندان سے آن ملی۔ اپنے آبائی علاقہ گورکوہی عشیرئی درہ پہنچنے پر خاندان کے افراد نے جہان سلطان کا پرتپاک استقبال کیا
اور خوشی میں مٹھائیاں تقسیم کیں۔ اس موقع پر کئی جذباتی مناظر بھی دیکھنے کو ملے جنہیں دیکھ کر کئی افراد اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور رو دئیے۔ معلوم ہوا ہے کہ برسوں سے لاپتہ جہان سلطان سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے خاندان تک پہنچنے میں کامیاب ہوئی جو اپنے خاندان سے بچھڑ کر مقبوضہ کشمیر کے علاقے اننت ناگ پہنچ گئی تھی جہاں پر پلی بڑھی اور اس کی شادی ہوئی جبکہ اب اس کے بچوں کے بھی بچے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر سے لاہور اور پھر اب دیر بالا کے علاقہ گورکوہی عشیرئی درہ اپنے نواسے حارث کے ساتھ اپنے خاندان سے ملنے آنے والی جہان سلطان کے بھائی ظلام خان کا کہنا ہے کہ اس کی بہن قیام پاکستان کے وقت چھ سال کی عمر میں لاپتہ ہوئی تھی اور ان کا ملنا اور پاکستان آنا قدرت کی خصوصی مہربانی ہے ان کے یہاں آنے سے بچے، بوڑھے، عورتیں اورسب خاندان والے بہت خوش ہیں۔جہان سلطان کے مقبوضہ کشمیر اننت ناگ سے ساتھ آنیوالے نواسے حارث کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان آکر اپنی نانی کے خاندان سے مل کر کافی خوش ہے اورخصوصی طور پر بچھڑی نانی کو اپنے خاندان سے ملوانے کیلئے کوششیں کرنے والے افرادکا شکریہ ادا کرتا ہے۔



















































