اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

اصلاح کون لوگ کر سکتے ہیں

datetime 5  مئی‬‮  2017 |

جب حضرت مولانا عبیداللہ سندھی رحمتہ اللہ نے دہلی میں ’’ادارۃ المعارف قائم فرمایا تو اس وقت وہ تھانہ بھون آئے اور آ کر فرمایا کہ میں علامہ شبلی نعمانی سے ملا، انہوں نے مسلمانوں کی عام بے راہ روی، پریشانی اور مبتلائے آفات ہونے کا تذکرہ کیا۔ میں نے ان سے پوچھا کہ ’’آپ کے ذہن میں قوم کی اصلاح کی تدبیر کیا ہے؟‘‘

علامہ شبلی نے فرمایا کہ ’’قوم کی اصلاح صرف وہ لوگ کر سکتے ہیں جن کا قوم پر مکمل اثر ہو اور یہ اثر بغیر تقدس کے نہیں ہو سکتا اور تقدس بغیر تقویٰ اور کثرت عبادت اور کثرت بغیر ذکر اللہ کے حاصل نہیں ہو سکتا۔‘‘یہ علامہ شبلی کی رائے ہے، جو بڑے جدت پسند آدمی ہیں۔ اسی جدت کی وجہ سے انہوں نے ’’ندوۃ العلماء‘‘ لکھنؤ میں قائم کیا اور دوسرے لوگوں سے مختلف طرز اختیار کیا، یہ سارے کام کئے اور لیکن رائے یہ ہے کہ قوم کی اصلاح انہی لوگوں سے ہو سکتی ہے جن میں تقدس ہو، جن میں تقویٰ، طہارت، ذکر اللہ اور عبادت ہو اور اس تقدس کا یہ اثر ہوتا ہے کہ لوگوں کے دلوں میں اعتقاد پیدا ہوجاتا ہے اور قوم ان کی بات مانتی ہے۔یہ بات انہوں نے بہت تجربہ کی کہی ہے۔ جہاں کہیں لوگوں کی اصلاح ہوئی ہے وہ انہی لوگوں کے ذریعہ سے ہوئی ہے، جن کا اپنا عمل صحیح ہو، ورنہ چاہے کتنا بڑا محقق عالم آدمی ہو، کتنی لمبی چوڑی تقریریں کرتا ہو، وہ سب ہوا میں اڑ جاتی ہیں، اس کا کچھ اثر نہیں ہوتا۔
جناب و انسان سب مطیع
حاجی امداد اللہ صاحب کی ایک حکایت مولانا گنگوہی رحمتہ اللہ علیہ سے سنی ہے کہ سہارنپور میں ایک مکان تھا، اس میں جن کا سخت اثر تھا۔ جس کی وجہ سے لوگوں نے وہ مکان چھوڑ دیا تھا۔

اتفاق سے حضرت حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ کلیر سے واپس ہوئے سہارنپور تشریف لائے تو مالک مکان نے حضرت کو اسی مکان میں ٹھہرا دیا کہ شاید حضرت کی برکت سے جن دفع ہو جائیں گے۔ رات کو تہجد کے واسطے جب حضرت اٹھے اور معمولات سے فارغ ہوئے تو دیکھا کہ ایک شخص سامنے آ کر بیٹھ گیا۔ حضرت کو حیرت ہوئی کہ باہر کا آدمی اندر کیسے آ گیا۔ حالانکہ کنڈی لگی ہوئی ہے۔ پھر یہ کیسے آیا اور اندر کوئی تھا نہیں۔حضرت نے پوچھا ’’تم کون؟‘‘

اس نے کہا ’’حضرت میں وہ شخص ہوں جس کی وجہ سے یہ مکان چھوڑ دیا گیا ہے، یعنی جن ہوں۔ میں ایک لمبی مدت سے حضرت کی زیارت کا مشتاق تھا۔ اللہ نے آج میری تمنا پوری کی۔‘‘حضرت نے فرمایا۔ ’’ہمارے ساتھ محبت کا دعویٰ کرتے ہو اور پھر مخلوق کو ستاتے ہو، توبہ کر لو۔‘‘حضرت نے اس کی توبہ کرائی۔ پھر فرمایا کہ ’’دیکھو سامنے حضرت حافظ ضامن صاحب تشریف رکھتے ہیں۔ ان سے بھی ملاقات کر لو۔‘‘اس نے کہا کہ ’’نہیں حضرت، ان سے ملنے کی ہمت نہیں ہوتی۔ وہ بڑے صاحب جلال ہیں، ان سے ڈر لگتا ہے۔‘‘صاحبو! اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری وہ چیز ہے کہ جنات و انسان سب مطیع ہو جاتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…