ڈاکٹر عبدالحئی صاحب نے فرمایا ’’بعض نادان کہتے ہیں کہ بعض لوگ نماز بھی پڑھتے ہیں، اور دنیا بھر کے خرافات میں بھی مبتلا ہیں۔ نماز بھی پڑھتے ہیں، ٹیلی ویژن بھی دیکھتے ہیں، فضولیات اور لغویات بھی کرتے جاتے ہیں۔ جھوٹ بھی بولتے ہیں، غیبت بھی کرتے ہیں۔ وعدہ شکنی بھی کرتے ہیں۔ اہل تعلقات سے بدمعاملگی بھی ہوتی جاتی ہے، تو پھر ایسی نماز سے کیا فائدہ؟
سنئے! پہلی بات تو یہ ہے کہ ہم نماز کا حق جیسا چاہیے وہ ادا ہی نہیں کرتے، پھر یہ بھی ہے کہ منکرات و لغویات ترک کرنے کا ہم ارادہ ہی نہیں کرتے یا ان منکرات کو ہم گناہ ہی نہیں سمجھتے تو پھر توبہ کی بھی توفیق نہیں ہوتی۔ مگر میں کہتا ہوں اور آپ خود اس کا اندازہ کرکے دیکھیں کہ ایک مسلمان خواہ کیسی ہی نماز پڑھتا ہو، بے نمازی سے اس کی دینی حالت پھر بھی بہتر ہوگی۔ پھر اس پر بھی غور کیجئے کہ کتنے گناہ کبیرہ ہیں کہ لوگ اس میں مبتلا ہیں، مگر ہم اور آپ ہیں کہ ان سے بالطبع نفرت کرتے ہیں۔ پھر بہت سے ایسے گناہ ہیں جن میں ہم اور آپ نفس و شیطان سے مغلوب ہو کر مبتلا ہو جاتے ہیں۔ مگر پھر تنبہ ہوتا ہے تو توبہ و استغفار کی توفیق ہو جاتی ہے، یہ بھی نماز ہی کی برکت ہے اور یہی برکت فلاح دارین کا باعث ہے۔اکثر لوگ کہتے ہیں کہ اتنے دنوں سے دعائیں مانگ رہے ہیں، قبول نہیں ہوتیں۔ اتنے دنوں سے وظیفے پڑھ رہے ہیں، ان کا کوئی اثر نہیں ہوتا، اتنے دنوں سے نماز پڑھ رہے ہیں، نماز میں دل نہیں لگتا۔ جب نفس و شیطان غالب ہو جاتا ہے تو نماز بھی ترک کر دیتے ہیں۔ اول تو عقیدہ ہی فاسد ہے کہ نماز اور وظائف اس لیے ہے کہ ان کی برکت سے ہمارے دنیاوی مقاصد پورے ہوتے رہیں، نماز تو اللہ تعالیٰ کا حکم ہے، تم پر فرض ہے کہ نماز پڑھو، تم کو حکم ہے کہ دعا کرو، اس لیے ہر حال میں حکم الٰہی کی تعمیل تم کو کرنا پڑے گی۔ خود کوئی بھی حالت ہو، جب تم نے ان کے حکم کی تعمیل کر لی، خواہ طوعاً و کرھاً ہی سہی تو پھر اللہ تعالیٰ کی شان رحمانیت تم کو دنیا کی کسی سعادت سے محروم نہ رکھے گی۔



















































