اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

بخل اور غصہ سے اللہ کی پناہ مانگئے

datetime 4  مئی‬‮  2017 |

وہب بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ بنی اسرائیل میں ایک عابد تھا۔ شیطان نے اسے بہکانا چاہا، مگر کامیاب نہ ہوا۔ عابد ایک دن کہیں باہر گیا۔ شیطان بھی اس تاک میں اس کے ساتھ ہو لیا کہ شاید کوئی موقع ملے۔ چنانچہ شہوت اور غضب کے ذریعے اسے بہکانا چاہا۔ مگر ناکام رہا۔ پھر ڈرانے کی صورت اختیار کی اور پتھر کی ایک چٹان اس کے سر کے قریب کردی۔ عابد نے اللہ کا نام لیا، وہ دور ہٹ گئی۔

پھر یہ شیر اور درندوں کی شکلوں میں ظاہر ہونے لگا۔ مگر عابد اللہ کے ذکر میں لگا رہا اور ادھر دھیان تک نہ دیا۔پھر اس نے سانپ کی شکل بنائی۔ عابد نماز پڑھتا تھا۔ یہ اس کے پاؤں سے لپٹنے لگا۔ حتیٰ کہ جسم پر سے ہوتا ہوا سر تک پہنچ گیا۔ وہ سجدہ کا ارادہ کرتا۔ یہ اس کے چہرہ پر لپٹ جاتا۔ وہ سجدہ کے لیے سرجھکاتا یہ لقمہ بنانے کے لیے منہ کھول دیتا، مگر وہ اسے ہٹا کر سجدہ کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ نماز سے فارغ ہوا تو شیطان کہنے لگا کہ ’’یہ سب حرکتیں تیرے ساتھ میں نے ہی کی ہیں، مگر میں کسی میں بھی کامیاب نہ ہو سکا۔ اب تو میرا ارادہ ہے تیرے ساتھ دوستی لگا لوں اور آج کے بعد تجھے بہکانے کا خیال تک بھی دل میں نہ لاؤں۔‘‘عابد نے کہا ’’ہرگز نہیں، اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ نہ تو پہلے تیرے ڈرانے سے مجھے کوئی خوف ہوا اور نہ ہی آج تیری دوستی کی مجھے حاجت ہے۔‘‘شیطان کہنے لگا کہ ’’اپنے اہل و عیال کا حال مجھ سے پوچھ کہ تیرے بعد ان پر کیا گزرے گی؟‘‘عابد نے جواب دیا کہ ’’میں تو اس وقت مر چکا ہوں گا۔‘‘شیطان کہنے لگا کہ ’’پھر یہی پوچھ لے کہ میں بنی آدم کو کیسے گمراہ کرتا ہوں۔‘‘ عابد نے کہا ’’ہاں یہ بتا دے کہ انہیں گمراہ کرنے میں تو کیسے کامیاب ہوتا ہے؟‘‘کہنے لگا ’’تین چیزوں سے۔ بخل سے، غصہ سے اور مدہوشی سے۔ ایک انسان جب بخیل ہوتا ہے تو ہم اس کا مال اس کی نگاہوں میں قلیل دکھاتے ہیں۔

جس سے وہ حقوق واجبہ میں صرف کرنے سے رک جاتا ہے اور لوگوں کے مال میں رغبت کرنے لگتا ہے اور جب کوئی آدمی غصہ کا مریض ہو تو اسے اپنی جماعت میں یوں گھماتے اور چکر دیتے ہیں جیسے بچے کھیل کے دوران گیند کو ادھر پھینکتے اور گھماتے ہیں۔ ایسا شخص خواہ اپنی دعاؤں سے مردوں کو زندہ کرنا بھی جانتا ہو مگر ہم اس سے مایوس نہیں ہوتے، وہ جو چاہے بنا لے،

ہم ایک ہی کلمہ سے اسے بگاڑ دیں گے اور جب کوئی شخص مدہوش ہوتا ہے تو ہم اسے ہر برائی کی طرف پکڑ کر یوں لے جاتے ہیں جیسے کوئی بکری کو کان سے پکڑ کر جہاں چاہے لے جائے۔‘‘اس گفتگو میں شیطان نے یہ بات بتائی کہ غضبناک آدمی شیطان کے ہاتھ میں یوں ہوتا ہے جیسے گیند بچوں کے ہاتھ میں۔ لہٰذا غصہ والے شخص کو چاہئے کہ صبر و تحمل سے کام لے تاکہ شیطان کے ہاتھوں اسیر نہ ہو اور وہ اس کے اعمال کو ضائع کرکے رکھ دے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…