بنگلے کے دروازے پر گاڑی رکتے ہی نوکر سے دوڑ لگائی اور مرکزی دروازہ کھول دیا۔ عابد چوہدری نے گاڑی باہر کی بند کردی اور اپنے جان سے پیارے کتے ٹائیگر کے ساتھ باہر نکل آئے۔ نوکر نے سلام کیا اور ٹائیگر کی زنجیر تھام لی۔ عابد چوہدری نے دروازے کی طرف قدم بڑھایا ہی تھا کہ ایک آواز آئی، اللہ کے نام پر کچھ دے دو صاحب۔۔
چوہدری نے ایک نظر اس لاغر سے بوڑھے فقیرپر ڈالی اور جیب سے کچھ پیسے نکال کر اس ہتھیلی پر رکھ دیے۔ اللہ بھلا کرے صاحب! اللہ کاروبار میں ترقی دے! فقیر نے دعا دی۔ابھی اگلا قدم اٹھایا ہی تھا کہ فقیر نے پھر صدا لگائی صاحب ایک فریاد تھی، کوئی پرانا کمبل دے دیں صاحب۔۔۔سردی بہت هے اور اوڑھنے کو کوئی گرم کپڑا نہیں میرے پاس فقیر کی یہ بات سن کر چوہدری کے چہرے پر کرختگی نمایاں هو گئی۔ جو دینا تھادے دیا، زیادہ منہ مت کھول اور دفع هو جا ، اس نے جواب دیا۔ اللہ آپ کو بہت دے گا ، فقیر نے پھر فریاد کی لیکن چوہدری اس کی بات سنے بغیراندر چلا گیا۔فقیر کے قدم مایوسی سے لوٹ گئے۔ بلاوے پر آنے والا ڈرائیور قدیر اب عابد چوہدری کے سامنے کھڑا تھا، جی مالک؟ قدیر تم ابھی مارکیٹ جاؤ اور ٹائیگر کے لیے گرم کپڑے اوراس کے کمرے میں لگانے کے لیے ایک ہیٹر لے آؤ۔ آج جب وه میرے ساتھ جب واک پر گیا تھا تو سردی محسوس کر رها تھا۔ یہ کہہ کر اس نے قدیر کو پانچ ہزار روپے کا نوٹ دیااورقدیر اچھاصاحب کہتا هوا چلا گیا۔ عابد چوہدری ایک مشہور صنعت کار تھا۔ لاهورمیں اس کی دو فلور ملیں تھیں۔ دو بھائیوں میں سے ایک برسر اقتدار جماعت کی طرف سے رکن قومی اسمبلی اور اسٹیل کا مشہور بزنس مین بھی تھا۔ ایک روز عابد چوہدری گھر کے لان میں بیٹھا اپنی بندوق چیک کر رہا تھا۔ پاس ہی ٹائیگر کھیل رہا تھا۔ بندوق لوڈ تھی، اچانک ٹریگر دبنے سے گولی چل گئی اور پاس کھیلتے ٹائیگر کو ٹھنڈا کرگئی۔ چوہدری کی تو گویا جان ہی نکل گئی۔
اس نے چیختے ہوئے ملازم کو بلایا اور ٹائیگر کو لے کر ہسپتال پہنچا لیکن وہ مرچکا تھا۔ ٹائیگر کے مرنے کی خبر عابد چوہدری کے حلقہ احباب میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ چند ہی لمحوں میں گھر پر افسوس کرنے والوں کا تانتا بندھ گیا تھا یہاں تک کہ جب بھائی کو اسمبلی اجلاس کے دوران اس سانحے کی خبر ملی تو وہ اجلاس ادھورا چھوڑ کر لاہور چلا آیا۔ ایئرپورٹ سے وہ سیدھا عابد چوہدری کے بنگلے پر پہنچا۔ جونہی گاڑی سے باہر نکلا بدبو کا ایک تیز بھبکا اس کی ناک سے ٹکرایا۔ یہ اتنی بدبو کہاں سے آ رہی هے؟ اس نے ڈرائیور سے پوچھا۔ڈرائیور نے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں دیکھتا ہوں سر! اور وہ رومال ناک پر رکھ کر جلدی سے بنگلے میں داخل ہوگیا۔ ڈرائیور بدبو کا تعاقب کرتے ہوئے اس جھونپڑی تک پہنچ گیا جو عابد چوہدری کے بنگلے کی دیوار کے ساتھ بنی ہوئی تھی۔ اس نے گھر آ کر بتایا کہ بدبو اس جھونپڑی کے اندر سے آ رہی ہے۔ ایک آدمی مرا پڑا ہے، بوڑھا سا کوئی فقیر ہے۔ بدبو سے لگتا ہے کافی دنوں سےمرا پڑا ہے اور سر! کوئی کپڑا نہیں ہے اس پر، لگتا ہے سردی سے مر گیا بیچارہ!



















































