شیخ شہاب الدین سہروردی رحمتہ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ میں حج پر گیا۔ میں نے وہاں دیکھا کہ ایک آدمی غلاف کعبہ کو پکڑ کر دعائیں مانگ رہا تھا۔جب میں اس کے دل کی طرف متوجہ ہوا تو اس کا دل اللہ سے غافل تھا۔ وہ اس لیے کہ اس کے ساتھ کچھ اور لوگ بھی حج پر آئے ہوئے تھے۔ دعا مانگتے وقت اس کے دل میں یہ تمنا پیدا ہو رہی تھی کہ کاش میرے دوست مجھے دیکھتے کہ میں کیسے رو رو کردعائیں مانگ رہا ہوں۔
وہ آدمی یہ عمل اللہ کے لیے نہیں کر رہا تھا بلکہ دکھاوے کے طور پر کر رہا تھا۔ پھر فرماتے ہیں کہ اس کے بعد منیٰ میں آیا اور میں نے دیکھا کہ ایک نوجوان اپنا مال فروخت کر رہا تھا۔ اس کے اردگرد اتنا ہجوم تھا کہ وہ لوگوں کے جھرمٹ میں گھرا ہوا تھا۔ فرماتے ہیں کہ جب میں اس کے دل کی طرف متوجہ ہوا تو میں نے اس کے دل کو ایک لمحہ کے لیے بھی اللہ تعالیٰ سے غافل نہیں پایا۔ یہی مقصود زندگی ہے کہ ہم اپنے کاروبار میں ہوں یا جہاں کہیں بھی ہوں، ہمارا دل ہر وقت اللہ رب العزت کی یاد میں لگا ہوا ہو۔ یعنی دست بہ کار دل بہ یار، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:ترجمہ: ’’وہ مرد کہ نہیں غافل ہوتے سودا کرنے میں اور نہ بیچنے میں اللہ کی یاد سے اور نماز قائم رکھنے سے اور زکوٰۃ دینے سے، ڈرتے ہیں اس دن سے جس میں الٹ جائیں گے دل اور آنکھیں۔‘‘ (النور:37)
بنیئے کی زبان پر ذکر خدا
اللہ کے ذکر سے زیادہ لذیذ کوئی شے نہیں، اس میں کتنی لذت ہے جو اسے ورد میں رکھتے ہیں وہ جانتے ہیں مگر یہ لذت، خاصہ ہے ذکر کا۔ انوار و برکات نظر آئیں گے، چاہے وہ کافر بھی کرے تو اسے لذت آئے گی مگر مقصود نہیں،
بس اس فرق کو سمجھ لیں۔ایک بنیا تھا، دکان کھولتا بسم اللہ کہہ کر، ترازو اٹھاتا بسم اللہ کہہ کر اور ہر وقت اللہ اللہ کہتا۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ میں مسلمان تو نہیں ہوا، مگر مزہ آتاہے۔ تو یہ انوار تو ظاہر ہیں مگر یہ لذت اور انوار مقصود نہیں۔ مقصود ہے اللہ کی رضا اور یہ رضا حضورؐ کے طریقوں میں ہے۔



















































