آپ سوویت یونین کی مثال لیں، معیشت دیکھیں، ایک روبل میں دو ڈالر آتے تھے۔ دنیا میں سب سے زیادہ سونا ماسکو کے پاس تھا۔ روسیوں کو انتہائی سستی اور انتہائی مضبوط اشیاء بنانے میں کمال حاصل تھا اور مالیاتی دنیا میں سب سے زیادہ تھے۔ قدرتی وسائل دیکھیں، دنیا میں سب سے زیادہ تیل سوویت یونین کے پاس تھا۔سینٹرل ایشیا کی صرف تین ریاستوں میں 5 کھرب بیرل سے زائد تیل تھا۔
دنیا میں سب سے زیادہ رقبہ، سب سے زیادہ جنگلات، سب زیادہ لائف اسٹاک، سب سے زیادہ پانی روسیوں کے پاس تھا۔ بجلی اور گیس کا تو عالم ہی کچھ اور تھا۔ پوری پوری ریاست کو بجلی اور گیس مفت ملتی تھی۔ پورے پورے شہر کو مفت گرم پانی ملتا تھا۔ سڑکیں تک بھاپ اڑاتے پانی سے دھوئی جاتی تھیں۔سماجی نظام دیکھیں، سوویت یونین کے تمام شہریوں کے پاس اپنے گھر تھے۔ ساری آبادی کو روٹی، دودھ، مکھن، کپڑے اور جوتے مفت ملتے تھے۔ تعلیم سو فیصد تھی۔ عدل و انصاف دیکھیں، سالوں تک عدالتوں میں کوئی مقدمہ پیش نہیں ہوتا تھا۔ کروڑوں لوگوں کے ملک میں چوری، ڈاکے، قتل اور آبرو ریزی کی وارداتیں ناپید تھیں۔ پورا ملک عصمت فروشی کی لعنت سے پاک تھا۔دفاع کو دیکھیں، سوویت یونین کے پاس دنیا کی سب سے بڑی فوج تھی۔ وہ ہر سال فوج پر 250 ارب ڈالر خرچ کرتا تھا۔ دنیا میں سب سے زیادہ جوہری ہتھیار روس کے پاس تھے۔ اس کے ’’وار ہیڈز‘‘ کی تعداد 10240 تھی۔ روسی جرنیل کہا کرتے تھے ’’ہماری فوج کی تاریخ میں کوئی ویتنام نہیں۔‘‘ یہ دنیا کی واحد فوج تھی جس نے جہاں قدم رکھ دیا وہاں سے پھر پسپا نہیں ہوئی۔ لیکن ان کرشموں، ان تمام کمالات کی انتہاء دیکھئے! یہ سوویت یونین کچی مٹی کے گھڑے کی طرح کرچی کرچی ہو گیا۔ اسے نہ اس کی فوج بچا سکی، نہ نظام عدل، نہ سوشل سسٹم، تیل اور نہ ہی روبل! سوال پیدا ہوتا ہے کیوں؟
جواب بہت سیدھا اور عام فہم ہے۔ سوویت یونین کی لیڈر شپ نے میزائل تو بنا لیے، فوج بھی جمع کر لی، تیز اور مضبوط ترین نظام بھی تشکیل دے لیا، ڈیم بھی بنا لیے، ریلوے لائنیں اور سڑکیں بھی بچھا دیں، گھروں تک بجلی، گیس اور گرم پانی بھی پہنچا دیا۔ تیل بھی نکال لیا، انڈسٹری بھی لگا لی اور کرنسی بھی تگڑی کر لی، لیکن وہ اپنے عوام کو بھول گئی۔ خرودشیف سے گوربا چوف تک سوویت یونین کے تمام رہنما بھول گئے،
عوام کرنسی، انڈسٹریل، تیل، ڈیم، سڑک اور توپ سے بڑی طاقت ہوتے ہیں۔وہ بھول گئے، ملک ہوں یا نظام دونوں عوامی طاقت کے ذریعے ہی قائم رہتے ہیں۔ انہوں نے فراموش کر دیا۔ وہ نظام، وہ نظریہ جس نے نسل انسانی کی پوری تاریخ بھلا کر رکھ دی تھی۔ وہ اب آہستہ آہستہ عوام کے ذہنوں سے اپنی جڑیں سمیٹ رہا ہے۔ کامریڈ اب دل سے کامریڈ نہیں رہے، 1917 سے چلا آتا نظام عوام کے دلوں سے اپنی قدر کھو چکا ہے۔
لہٰذا پھر دنیا نے دیکھا میزائل ٹنگے رہ گئے، توپیں، ٹینک اور مشین گنیں ساکت رہ گئیں، زمین میں ہلکورے لیتے تیل نے بھی چپ سادھ لی۔ جبکہ عوام لینن اور اسٹالن کے بتوں کو گلیوں میں گھسیٹ رہے تھے۔ اپنے خداؤں کوپاؤں میں روند رہے تھے۔سوویت یونین دنیا کی پہلی مثال نہیں تھی۔ فرعون کی خدائی سے زوال بغداد تک اور بابل کی اڑتی بکھیرتی راکھ سے مارکس کے کرچی کرچی ہوتے بتوں تک تاریخ کا ایک ہی فیصلہ ہی، جس مملکت نے عوام کا اعتماد کھو دیا وہ راکھ کا ڈھیر بن گئی۔
جس نظام نے عوام کو فراموش کر دیا، وہ قطب سے کتب میں منتقل ہو گیا اور جن حکمرانوں نے عوام سے دغا لیا ان کی قبریں دعاؤں کو ترس گئیں۔ قوموں، نظاموں اور ملکوں کی بقا کا صرف ایک ہی اصول ہے اور اس اصول کا نام ہے عوام۔ ملک بھی عوام ہی بنایا کرتے ہیں، ملک کو بچایا بھی عوام ہی کرتے ہیں اور آخر میں ملک تباہ بھی عوام ہی کیا کرتے ہیں۔ آپ اپنی مثال لیں۔ یہ ملک کس نے بنایا، اس عوام نے جو فیروز والا، امرتسر اور انبالہ میں ذبح کر دیے۔
1965ء میں اس ملک کو کس نے بچایا؟ عوام نے۔ فوج تو اس وقت تھی ہی تھوڑی سی، اسی طرح 1971ء میں جب مشرقی پاکستان میں عوام نے ریاست کا ساتھ دینے سے انکار کردیا تو اس ملک کو فوج بچا سکی اور نہ ہماری خارجہ پالیسی۔آج ہم اس ملک کی سرحدوں کے بارے میں سوچتے ہیں، ہم اپنے ایٹم بم کے بارے میں بھی سوچتے ہیں۔ ہم اپنے مالیاتی ذخائر بھی 8 ارب تک لے جاتے ہیں، ہم امریکی بموں سے بچنے کے لیے بش کی چھتری میں پناہ بھی لے لیتے ہیں۔
ہم کمزور، جی حضور اور سلام صاحب قسم کی لیڈر شپ کی نرسری بھی لگا لیتے، الیکشن بھی کراتے ہیں، اگر نہیں کرتے تو عوام کے آنسو نہیں پونچھتے ، نہیں سوچتے تو عوام کے بارے میں نہیں سوچتے۔ اس عوام کے بارے میں نہیں سوچتے جس کا دوسرا نام پاکستان ہے۔ذرا سوچئے! ہمارے پاس 10240 میزائل ہیں، نہ ڈھائی سو ارب ڈالر کا دفاعی بجٹ، نہ 5 کھرب بیرل تیل اور نہ ہی وہ روبل جس کے ایک کے بدلے 2 ڈالر آتے ہیں۔ عوام کا اعتماد کھو کر تو سوویت یونین نہیں چل سکا تھا۔ پھر ہم 14 کروڑ لوگوں کو ستا کر اس ملک کی کب تک حفاظت کر لیں گے۔



















































