اندلس میں عیسائیوں نے غصب اور تعصب میں دس لاکھ کتابوں کو نذر آتش کر دیا۔ اس زمانہ میں مسلمان دوسری قوموں سے اتنا زیادہ آگے تھے کہ مسلمان جب اسپین سے ملک بدر کیے گئے تو انہوں نے وہاں رصد گاہیں چھوڑیں جن کے ذریعہ وہ آسمانی اجرام کا مطالعہ کرتے تھے۔ ان چھوڑی ہوئی رصد گاہوں کا استعمال اسپین کے عیسائی نہیں جانتے تھے۔
چنانچہ انہوں نے ان کو کلیسا کے گھنٹہ گھر میں تبدیل کر دیا۔ جس دور میں مسلمان پوری دنیا میں علم کی روشنی پھیلا رہے تھے۔ یورپ پر جہالت کے بادل چھائے ہوئے تھے۔ اگر کوئی سرپھرا علمی اورسائنسی تحقیق کی کوشش کرتا تھا، اسے بھیانک نتائج کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ سقراط کو اسی جرم میں زہر کا پیالہ پینا پڑا کہ وہ ایتھنز کے نوجوانوں میں آزادانہ غور و فکر کا مزاج بنا رہا تھا۔ گلیلو کو صرف اس لیے پھانسی کی سزا سنائی گئی کہ وہ زمین کو متحرک مانتا تھا۔
علمی استغراق
صحیح بخاری کے مصنف امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے چودہ برس کی عمر میں سیاحت شروع کردی تھی۔ بخارا سے مصر تک سارے ممالک کا امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے سفر کیا۔امام ابو حاتم رازی رحمتہ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نو ہزار میل سے زیادہ مسافت پیدل طے کی ہے، لیکن یہ اس کی مسافت کی انتہا نہیں ہے بلکہ ان کے شمار کی حد ہے۔ کیونکہ امام رازی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد میں نے میلوں کا شمار کرنا چھوڑ دیا۔امام ابن جوزی مشہور محدث ہیں، تین سال کی عمر میں یتیم ہو گئے تھے، علمی استغراف کی حالت یہ تھی کہ جمعہ کی نماز کے علاوہ گھر سے دور نہیں جاتے تھے۔
ایک مرتبہ منبر پر کہا کہ میں نے اپنی ان انگلیوں سے دو ہزار جلدیں لکھی ہیں۔ احادیث لکھتے وقت قلموں کے تراشے جمع کرتے جاتے تھے۔ مرتے وقت وصیت کی تھی کہ ’’میرے نہانے کا پانی اسی سے گرم کیا جائے۔‘‘ کہتے ہیں کہ پانی گرم کرنے کے بعد بھی تراشے بچ گئے تھے۔اور سنئے! تاریخ بتاتی ہے کہ مسلمانوں میں حصول علم کا جذبہ اس قدر شدید تھا کہ آنکھوں سے نابینا ہونے کے باوجود بے شمار افراد نے علمی دنیا میں نام پیدا کیا اور اس کی خاطر بے پناہ تکلیفیں برداشت کیں۔



















































