اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

گورنر کے بیٹے کوسزا

datetime 4  مئی‬‮  2017 |

حضرت عمرو بن عاص ؓ، امیر المومنین عمر بن خطاب ؓکے عہد خلافت میں مصر کے حاکم تھے- مصر کا ایک آدمی حضرت عمر بن خطاب ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی:” یا امیر المومنین! انا عائد بک من الظلم”(اے امیر المومنین! میں ظلم سے آپ کی پناہ لینے آیا ہوں۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا:” عذت معاذا”(تم نے ایسے آدمی کی پناہ حاصل کی جو تمہیں پناہ دے سکتا ہے۔مصری بولا:

میں نے حضرت عمرو بن عاص ؓ کے بیٹے کے ساتھ دوڑ میں مقابلہ کیا، میں اس سے آگے بڑھ گیا تو تو وہ مجھے کوڑے مارنے لگا اور کہنے لگا: انا ابن الاکرمین۔ میں شریف خاندان کا بیٹا ہوں۔ یہ شکوہ سن کر حضرت عمر ؓ نے مصر کے حاکم حرات عمرو بن عاص ؓکو خط لکھا کہ وہ اپنے بیٹے کے ساتھ تشریف لائيں۔عمرو بن عاص ؓ اپنے بیٹے کے ساتھ امیر المومنین کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انھوں نے پوچھا: این المصری؟مصری کدھر ہے؟وہ سامنے آیا تو کہا:” خذ السّوط فاضرب”یہ کوڑا لے اور مار۔امیرا لمومنین کا حکم ملتے ہی مصری عمرو بن عاص ؓکے بیٹے پر کوڑا برسانے لگا اور امیر المومنین کہتے جارہے تھے:اضرب ابن الاکربین۔شریف خاندان کے بیٹے کو مارو۔حضرت انس رض کہتے ہیں: مصری نے عمرو بن عاص ؓکے بیٹے کو کوڑے لگائے اور اللہ کی قسم! بہت مارا، اور ہم اس کی پٹائی چاہتے بھی تھے- لیکن مصری برابر مارے جارہا تھا، حتی کہ ہماری خواہش ہوئی کہ اب اس کی پٹائی بند ہوجائے- پھر حضرت عمر بن خطاب ؓنے مصری سے فرمایا:” ضع علی صلعۃ عمرو”( کوڑا عمرو بن عاص کی چند یا ” گنجے سر” پر بھی لگاؤ۔مصری نے عرص کی: اے امیر المومنین! ان کے بیٹے نے میری پٹائی کی ہے اور میں نے اس سے قصاص لے لیا۔پھر امیر المومنین عمر بن خطاب ؓعمرو بن عاص ؓکی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا:” مذ کم تعبّدتّم النّاس وقد ولدتھم امّاتھم احرارا”( تم نے لوگوں کو کب سے غلام بنا رکھا ہے جب کہ ان کی ماؤں نے انھیں آزاد جنا ہے؟

عمرو بن عاص ؓنے عرض کہا:” یا امیر المومنین! لم اعلم ولم یاتنی”( اے امیر المومنین! مجھے اس معاملے کی کچھ بھی خبر نہیں اور نہ یہ میرے پاس شکایت لے کر آیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…