اصمعی اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ خلیفہ عبدالملک بن مروان کے پاس ایک آدمی لایاگیا،اس پر الزام تھا کہ یہ بغاوت کرنے والے لوگوں کے ساتھ تھا۔حکم ہوا کہ اسکی گردن اڑادو۔ اس شخص نے کہاۛ؛امیرالمومنین۰میری بات سن لیں پھر جوچاہیں کریں۔ دراصل بدلہ وہ نہیں جو آپ مجھے دے دہے ہیں۔ خلیفہ نے کہا کہ تمہارا بدلہ کیا ہے؟اس نے کہا؛امیرالمومنینٰ میں جس کے ساتھ بھی آپ کے خلاف لڑائی کے لیے نکلا تونظربدلگانے کے لیےنکلا،اسے شکست اور رسوائی کے سوا کچھ بھی
حاصل نہیں ہوا اور اس کے مقابلے میں آپ کو فتح وکامرانی حاصل ہوئی۔اگر سچ پوچھیں تومیں آپ کے دشمنوں کے ساتھ رہتے ہوئے آپ کے حق میں آپ کے لاکھوں خیرخواہوں سے بہتر ثابت ہواہوں،اسکے لشکر کے ٹکڑےٹکڑےہوگئے۔میں فلاں کے ساتھ نکلا تو وہ قتل ہوگیا، فلاں کے ہمراہ تھا اسے شکستَ فاش ہوئی۔اس طرح اس نے کتنے ہی امرا٫ کے نام گنوائے جن کے ساتھ وہ تھا اور انھیں شکست ہوئی۔ عبدالملک نے اسکی گفتگو سنی توبےاختیار ہنسنےلگااوراس کاراستہ چھوڑدیا۔



















































