نائلہ بن فرافضہؓ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی وفادار بیوی تھیں۔جو فضاحت و بلاغت سے آراستہ،بلندپایہ خطیبہ تھیں ان کی دعا بہت قبول ہوتی تھی۔ان کی اس کرامت کا تذکرہ تاریخ کی کتابوں میں ملتا ہے۔ابن عساکر اپنے ایک شیخ کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ میں بیت اللہ کا طواف کررہاتھا کہ وہاں ایک اندھا شخص طواف کرتے ہوئے یہ کہہ رہا تھا:
الہی مجھے بخش دے لیکن میرا خیال ہے تومجھے بخشے گا نہیں”میں نے کہا :ارے تو اللہ سے نہیں ڈرتا؟اس نے کہا میری کہانی بڑی عجیب ہے میں اور میرے ایک ساتھی نے یہ قسم کھا رکھی تھی کہ ہم دونوں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے چہرے پر اس وقت تھپڑ ماریں گے جب انہیں قتل کردیاجائے گا۔قتل کے روز جب ہم ان کے گھر میں داخل ہوئے تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا سر ان کی بیوی نائلہ بنت فرافصہ رضی اللہ عنہا کی گود میں تھا۔میرے ساتھی نے حضرت نائلہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے چہرے سے کپڑا ہٹاؤ میں نے ان کے چہرے پر تھپڑ مارنے کی نیت کی ہوئے ہے۔حضرت نائلہ رضی اللہ عنہا نے کہا:جانتے ہویہ وہ ہستی ہیں جسے رسول اللہﷺ نے جنتی ہونے کی بشارت دی ہے۔یہ بات سن کروہ تو شرمندہ ہوکر واپس چلاگیا۔تاہم میں نے نائلہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ کپڑا ہٹاؤ مجھے عثمان رضی اللہ عنہا کے چہرے پر تھپڑ مارنا ہے۔نائلہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے وہی کہا جومیرے ساتھی سے کہا تھا لیکن میں اپنے ارادے سے باز نہ آیا اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہا کے چہرے پرتھپڑ رسید کرہی دیا۔نائلہ رضی اللہ عنہا نے یہ منظر دیکھتے ہی مجھے کہا:”تیرا ستیاناس ہو اللہ تیرا ہاتھ خشک کردے اور تو اندھا ہوجائے”۔انہوں نے یہ بدعا دے دی’مگر میں ان نے گھر کے دروازے سے ابھی نکلا ہی تھا کہ میرا وہ ہاتھ فوراَ سوکھ گیا جس سے میں نے تھپڑ مارا تھا۔اسی وقت میری نظر بھی جاتی رہی اور میں اندھا ہوگیا۔
اس لیے میرا خیال ہے کہ اللہ میرے گناہ نہیں بخشے گا۔راوی بیان کرتا ہے کہ میں نے اس شخض کا ہاتھ دیکھا جو لکڑی کی مانند سوکھا ہوا تھا۔نائلہ بنت فرافضہ رضی اللہ عنہما کی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے انتہائی محبت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ جب مدینہ میں ہنگامہ آرائی کرنے والے دیوار پھلانگ کر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے گھر آگئے اور وہ تلواریں لے کر ان کی طرف بڑھے تو حضرت نائلہ بنت فرافضہ رضی اللہ عنہا اپنے عظیم شوہر کو بچانے کے لیے ان کے ساتھ لپٹ گئیں لیکن پھر بھی ایک کمبخت نے تلوار کا وار کرکے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو زخمی کردیا جب ایک دوسرا شخص ننگی تلوار لے کر آگے بڑھا تو حضر ت نائلہ رضی اللہ عنہا نے اپنے شوہر کو بچانے کے لیے اس تیز تلوار کو اپنے ہاتھ سے روک لیا جس سے حضرت نائلہ رضی اللہ عنہما کی انگلیاں کٹ کر ہاتھ سے جدا ہوگئیں۔اس کے باوجود اس ملعون نے تلوار کے وار کر کر کے داماد رسول اللہ ﷺ جلیل قدر صحابی سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کردیا۔اس طرح ایسی دفادار بیوی کی مثالیں بہت کم دیکھنے میں آتی ہیں مگر حضرت نائلہ بنت فرافضہ ؓنے تو دفاداری کی قابل رشک مثال قائم کردی۔تو پھر کیوں نہ یہ اللہ رب العالمین کے ہاں مستجاب الدعا بنتیں۔توپھر کیوں نہ حضر ت ثمان رضی اللہ عنہ کے دل میں ان کا اعلی مرتبہ ہوتا۔



















































