بک شاپ پر مشنری اسکول میں پڑھنے والے ایک بچے نے سامنے رکھی ہوئی ایک تصویر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ’’ماما یہ بڈھا کون ہے؟‘‘ ماں جو انتہائی انہماک سے ایک فیشن میگزین کا مطالعہ کر رہی تھی، اس نے سرسری نظر اٹھا کر قائداعظم کی تصویر کی طرف دیکھا اور بولی ’’او جانی! یہ پاکستان کا ابراہیم لنکن ہے۔‘‘
یہ ہے ہماری نئی نسل جو اپنے شاندار ماضی سے بالکل بیگانہ ہوتی چلی جا رہی ہے اور یہ وہ گہرے گھاؤ ہیں جن سے ہماری نسلوں کا مستقبل لہولہان ہو چکا ہے۔ یہ نسل اپنی تہذیب اور ثقافت کا جنازہ نکال چکی ہے۔ اپنی اقدار کا گلہ گھونٹ چکی ہے، لیکن دوسری طرف ہماری ہی نسل کے وہ بچے بھی ہیں جو ٹاٹ اور دریوں میں بیٹھ کر اسلامی علوم حاصل کر رہے ہیں۔ جو دین اسلام کے محفوظ مستقبل کی ضمانت ہے۔ آپ اپنی ان دونوں نسلوں کو موازنہ کیجئے، مشنری اسکولوں میں پڑھنے والے بچے اور دوسری طرف ملت و ملت دین و ایمان، مشرقی روایات اور نبی کی سنت کو سینوں سے لگانے اور دلوں میں بسانے والے چشم و چراغ۔ایک طرف وہ ہیں جو دین اسلام کی حفاظت اور ترویج کے کام میں مشغول ہیں، مگر سب کی نظر میں بنیاد پرست اور ان پڑھ جاہل اور دوسری طرف وہ جو مغربی پتلون میں ملبوس، جن کا ہر فعل اسلام کے منافی ہے، جو لبرل اور ترقی کی معراج پر ہیں۔ ایک طرف منبر، مسجد و محراب ہیں تو دوسری طرف چرچ اور صلیب کے سائے ہیں۔ ادھر ٹوپی ہے تو ادھر ٹائی ہے۔ ادھر ٹوٹی پھوٹی چٹائیوں کے بچھونے ہیں تو ادھر جدید ائیر کنڈیشنڈ کلاس روم ہیں۔



















































