عمر بن ہبیرہ نہایت دولت مند اور سخی تھے،راہ گزارتے ہوئے ان کو ایک شخص نے روک لیا اور کہنے لگا،اے عرب کے امیر ترین شخص!میں حج کا خواہش مند ہوں عمربن ہبیزہ نے کہا پھر مکے کا راستہ پکڑو اور حج کے لیے مکہ پہنچ جاؤ۔وہ کہنے لگا:مگر میں چلنے سے عاجز ہوں تھک جاتا ہوں عمربن ہبیزہ نے کہا:کوئی نہیں،ایک دن سفر کرو اور دوسرے دن آرام کرلیا
کرو،تاکہ تھکاوٹ نہ ہو۔وہ ولا،میرے پاس اتنے پیسے نہیں کہ میں اس سے سواری خرید سکوں یا کرایہ پر لے سکوں۔فرمایا:چونکہ تم محتاج اور فقیر آدمی ہو،اس لیے تم سے حج ساقط ہے،حج توصاحب استطاعت پر فرض ہے ۔وہ کہنے لگا:اےعرب کے امیر!میں آپ سے مدد طلب کرنے آیا ہوں فتوی کے لیے نہیں۔عمربن ہبیزہ بے اختیار ہنس پڑے اور اسے پانچ ہزار درہم دینے کا حکم دے دیا۔



















































